اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

بیرون ملک اثاثے رکھنے والے پاکستانیوں کے ملک میں موجوداثاثے اور بینک اکاؤنٹس منجمد،کھلبلی مچ گئی

datetime 23  اگست‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی)قومی احتساب بیورو (نیب)کی ٹیکس چوری وفراڈ کی روک تھام کے لیے پیشگی اقدامات تجویز کرنے کے لیے قائم کردہ خصوصی کمیٹی برائے انسداد ٹیکس چوری نے حکومت کو بیرون ملک غیر قانونی اثاثے رکھنے والے پاکستانیوں کے ملک میں موجود اثاثے و بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا اختیار دینے کے لیے قانون متعارف کرانے کی سفارش کردی ہے۔

دستاویز کے مطابق خصوصی کمیٹی نے بینکنگ چینل کے ذریعے غیرملکی زرمبادلہ پاکستان لانے پر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کی سیکشن 111(4)کے تحت دی جانے والی انکم ٹیکس چھوٹ بھی واپس لینے کی تجویز دی اور کہا ہے کہ اس سیکشن میں ترمیم کی جائے اور بینکنگ چینل سے پاکستان آنے والے زرمبادلہ کے بارے میں بیرون ملک موجود ذرائع آمدنی پوچھیں جائیں اور اگر ذرائع آمدن درست ثابت ہوں تو اس صورت میں یہ چھوٹ دی جائے۔کمیٹی نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز ایکٹ 1992کی سیکشن 5 میں بھی ترمیم کی جائے، اس کے علاوہ ملک میں ایسا مناسب و موثر قانون ہونا چاہیے جس کے تحت حکومت بیرون ممالک غیر قانونی اثاثے رکھنے والے ایسے لوگوں کے پاکستان میں غیرملکی اثاثوں کی مالیت کے برابر موجود اثاثہ جات ضبط کرسکے یا ان پر بیرون ملک میں موجود اثاثوں کی مالیت کے برابر ٹیکس عائد کرسکے اور عدم ادائیگی پر ان کی ریکوری کے لیے بینک اکانٹس منجمد کر سکے۔دستاویز میں بتایا گیاکہ جن لوگوں کی جانب سے اپنے بیرون ملک موجود اثاثہ جات کے بارے میں پوچھ گچھ اور تحقیقات کے دوران ذرائع آمدنی ثابت نہ کیے جاسکیں تو ان کے خلاف پاکستان میں کارروائی کا اختیار ہو اور اس مجوزہ قانون کے تحت ان پاکستانیوں کے بیرون ملک موجود اثاثہ جات کی مالیت کے برابر یہاں پاکستان میں موجود اثاثے ضبط کیے جا سکیں اور ان پر ٹیکس بھی عائد کیے جا سکیں۔

دستاویز میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ بیرون ممالک ٹیکس ہیون میں کالادھن رکھنے والے پاکستانیوں کی دولت ملک میں واپس لانے کے لیے امریکا اور بھارت کی طرز پر ان ممالک کے ساتھ معاہدے کیے جائیں جن ممالک کے بینک اکانٹس میں یہ پاکستانی اپنا کالا دھن رکھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…