اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

چوہدری نثار کی چھٹی ،ن لیگ میں ا ختلافات عروج پر،رانا ثناء اللہ نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 20  اگست‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی)صوبائی وزیرقانون رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں کوئی انتشار نہیں اور پارٹی پہلے سے زیادہ متحد اور یکسو ہے ، چوہدری نثار نے اپنی گزشتہ پریس کانفرنس میں کہا تھاکہ انہیں مشاورت کے عمل سے علیحدہ کر دیا گیا جس کے بعد وہ دوبارہ اس عمل میں شامل ہو گئے تھے میرے خیال میں وہ اب پھر مشاورت کے عمل میں شامل نہیں ،

عدالت عظمیٰ کی طرف سے کہا گیا تھاکہ نیب فوت ہو چکا بلکہ دفن ہو گیا لیکن اب مردے نے کیسے برق رفتاری سے کام شروع کردیا اس میں کونسی روح پھونک دی گئی ہے؟۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ میرے خیال میں چوہدری نثار علی خان کے پانامہ کیس ، جے آئی ٹی کے معاملے پر پارٹی کے اندر بننے والی حکمت عملی کے حوالے سے اعتراضات ہیں ۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اس معاملے میں ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جائیں اور کچھ کا خیال تھا کہ ہمیں جے آئی ٹی کی تشکیل او ردیگر معاملات پر قوانین کے مطابق اعتراضاات اٹھانے چاہئیں ۔ یہ ہو سکتا ہے کہ چوہدری نثار کا یہ نقطہ نظر ہو کہ اگر ان کی حکمت عملی پر عمل کیا جاتا تو یہ نقصان نہ ہوتا کیونکہ اس کا انہیں بھی نقصان ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب نیب کے معاملے پر بھی پارٹی میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں ۔پارٹی میں ایک سوچ ہے کہ عدالت عظمیٰ کہہ چکی ہے کہ نیب فوت ہو گیا بلکہ دفن ہو گیا لیکن آج نیب نے کیسے بر ق رفتاری سے کام شروع کر دیا ،اس میں کونسی روح پھونک دی گئی ہے ۔ جب فیصلہ ہو چکا ہے اور ریفرنس دائر ہوتانظر آرہا ہے اور کیا فیصلہ ہونا ہے توہم سمجھتے ہیں کہ اس میں پیش ہو کر اسے کیوں عزت بخشی جائے اور اس میں پیش نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میری چوہدری نثار سے گزارش ہے کہ ان کا گلہ اور اظہار خیال سر آنکھوں پر لیکن اس کا اظہار بذریعہ پریس کانفرنس کرنے کی بجائے پارٹی کے اندر کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا اور یہ ویسے بھی ان کے شایان شان نہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…