ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پرویز رشید اور چوہدری نثار میں تنازعے کی تصدیق،سینیٹر مشاہد اللہ بھی میدان میں کود پڑے،سنگین الزامات عائد

datetime 20  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا ہے کہ ملک میں مارشل لاء لگانے میں ججز کا بھی کردار رہا ہے، پرویز رشید اور چوہدری نثار کا مسئلہ سنجیدہ ہے، چوہدری نثار کا موقف ان کا انفرادی ہے، ان کی پریس کانفرنس سے معاملات واضح ہو جائیں گے،کچھ باتیں اپنے وقت پر اچھی لگتی ہیں،وقت سے آگے پیچھے وہ باتیں کرنا سہی نہیں ہوتا، لگتاہے کہ اسپیکر ایاز صادق جسٹس آصف سعید کھوسہ کے خلاف ریفرنس تیار کر کے بھیجیں گے، اس بات کو اداروں سے تصادم سے تعبیر نہ کیا جائے،

وہ صرف اپنا آئین و قانون میں دیا گیا حق استعمال کر رہے ہیں، اداروں کے درمیان تصادم روکنا صرف پارلیمنٹ ہی نہیں سب اداروں کی ذمہ داری ہے،زرداری نے کہا کہ کوئی ڈائیلاگ نہیں کریں گے کبھی یہ کہتے کہ پارلیمنٹ کے اندر بات ہو، پہلے ان کو چاہیے کہ ڈائیلاگ کی تجویز پر کنفیوژن دور کریں، پیپلز پارٹی کو فرینڈلی اپوزیشن کا ٹھپہ لگنے کا خوف ہے، یہ وقت ڈان لیکس پر بات کرنے کا نہیں، ڈان لیکس کے وقت حکومتی پارٹی میں تھا مگر حکومت میں نہیں تھا۔ وہ ہفتہ کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری پارٹی میں اختلاف رائے ہونا خوش آئند ہے، اگر ایک جمہوری پارٹی میں اختلاف رائے نہ پایا جاتا ہو تو پریشانی کی بات ہونی چاہیے کیونکہ اس کا مطلب ہو گا کہ پارٹی میں مونا رکی پائی جاتی ہے۔ مشاہد اللہ نے کہا کہ پرویز رشید اور چوہدری نثار کا مسئلہ سنجیدہ ہے، دونوں وزیر بھی رہ چکے ہیں اور پارٹی کے اہم ترین رکن ہیں، چوہدری نثار کا موقف ان کا انفرادی ہے، ان کی پریس کانفرنس سے معاملات واضح ہو جائیں گے، جمہوری پارٹی میں اختلاف رائے ہونا بری بات نہیں ہے، ہر ممبر کی اپنی سوچ ہوتی ہے۔وزیر ماحولیات نے کہا کہ ماضی میں سب سے زیادہ مشاورت چوہدری نثار سے ہوئی، ملک میں 3بار مارشل لاء لگ چکا ہے اور ہر بار ججز نے جرنیلوں کا پورا ساتھ دیا،کردار بدلتے رہے مگر ملک میں ایک ہی کام بار بار دہرایا جاتا رہا، ہم نے خود عدلیہ کی بحالی تحریک چلائی نہ حکومت گراؤ تحریک چلائی جیسے ہی عدلیہ بحال ہوئی ہم وہیں سے واپس مڑ گئے۔

انہوں نے کہا کہ چوہدری نثار علی خان پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں، میاں نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں تھا، پھر بھی ہم نے تسلیم کیا اور فیصلے پر من و عن عملدرآمد کیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اداروں کی مضبوطی چاہتے ہیں۔ مشاہد اللہ نے کہا کہ کچھ باتیں اپنے وقت پر اچھی لگتی ہیں، اس سے آگے پیچھے وہ باتیں کرنا سہی نہیں ہوتا،میاں صاحب کے آخری دنوں میں چوہدری نثار سے زیادہ مشاورت نہیں ہوئی جبکہ اس سے قبل سب سے زیادہ مشاورت ہی چوہدری نثار سے ہوتی تھی اور وہ سب فیصلوں میں شامل ہوتے تھے۔ا

نہوں نے کہا کہ پیر کو اسپیکر ایاز صادق ،جسٹس آصف سعید کھوسہ کے خلاف ریفرنس تیار کر کے پیش کریں گے، مگر اس بات کو اداروں سے تصادم سے تعبیر نہ کیا جائے، اس کا مطلب جنہوں نے نواز شریف صاحب کو نا اہل کیا انہوں نے بھی اداروں میں تصادم کروایا، اسپیکر ایاز صادق صرف اپنا آئین و قانون میں دیا گیا حق استعمال کر رہے ہیں۔ مشاہد اللہ نے کہا کہ ابھی کل کی بات ہے جب مشرف نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر پارلیمنٹ پر حملہ کیا اور ابھی تک وہ جمہوریت کے خلاف بیان بازی کر رہا ہے، اداروں کے درمیان تصادم روکنا صرف پارلیمنٹ ہی نہیں بلکہ سب اداروں کی ذمہ داری ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر ماحولیات نے کہا کہ زرداری صاحب نے کہا کہ کوئی ڈائیلاگ نہیں کریں گے جبکہ کبھی یہ بھی کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے اندر بات ہو، پہلے ان کو چاہیے کہ ڈائیلاگ کی تجویز پر کنفیوژن دور کریں، پیپلز پارٹی کو فرینڈلی اپوزیشن کا ٹھپہ لگنے کا خوف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت ڈان لیکس پر بات کرنے کا نہیں، ڈان لیکس کے وقت حکومتی پارٹی میں تھا مگر حکومت میں نہیں تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…