ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

یہ ہوتا ہے بڑا پن پنجاب نے ڈینگی سے متاثرہ اپنے پشاور کے بھائیوں کا ہاتھ تھام لیا

datetime 19  اگست‬‮  2017 |

پشاور(ویب ڈیسک) پشاور میں ڈینگی نے وبا کی شکل اختیار کرلی ، ڈینگی بخار سے 7افراد جاں بحق ہوگئے ہیں ،وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 900کے قریب پہنچ گئی ہے جس کی وجہ سے ہسپتالوں میں گنجائش ختم ہوگئی اورمریضوں کو واپس بھجوایاجانے لگا، تہکال میں وباء کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں گو عمران گو اور گو خٹک گو کے نعرے لگائے گئے، ضلعی انتظامیہ کی آگاہی مہم بھی بدنظمی کا شکار ہوگئی ، شدید نعرے بازی کے باعث ناظم اور دیگر حکام تقریب ادھوری چھوڑ کر چلے گئے، لوگوں نے شہبازشریف سےمدد مانگ لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق خیبرٹیچنگ ہسپتال میں ڈینگی کے شبےمیں اب تک 4ہزار900سے زائد مریضوں کی سکریننگ کے بعد 831افراد میں مرض کی تشخیص ہوچکی ہے،پچھلے24گھنٹے کے دوران ہسپتال میں 44نئے مریض داخل کیے گئے ،ہسپتال میں ڈینگی بخار سے اب تک7افراد جاں بحق ہوچکے ہیں،لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں 9مریض جبکہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ڈینگی سے متاثرہ 34مریضوں کوداخل کیا گیا،گزشتہ روز تہکال میں ضلعی انتظامیہ ،ڈبلیوایس ایس پی اورمحکمہ صحت کیجانب سےآگاہی مہم بھی بد نظمی کا شکار ہو گئی،رہائشیوںنے گو عمران گو اور ضلع و ٹائون تھری ناظم کے خلاف نعرہ بازی کی جسکی وجہ سےٹائون تھری ناظم اور دیگر حکام تقریب ادھوری چھوڑ کر واپس چلے گئے جبکہ ضلع ناظم نے تقریب میں شرکت نہ کرنے میں ہی عافیت جانی۔جنگ اور دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تہکال پایاں کے ناظم گوہرزمان اور جنرل کونسلر عمرحیات خلیل نےبتایا کہ ڈینگی وبائی شکل اختیار کرچکی ہے جبکہ دوسری طرف ضلعی انتظامیہ کے اقدامات فوٹو سیشن تک محدودہے،انہوں نےکہا کہ وزیراعلی پنجاب شہبازشریف نے پنجاب میں ڈینگی کا خاتمہ کیا لہذا پشاور میں وباء پر قابو پانے کیلئے پنجاب حکومت سے تعاون حاصل کیا جائے تاکہ وہاں سے ماہرین کو بھیجا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پرویز خٹک نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیانہ ہی مرض پر قابو پانے کیلئے خصوصی فنڈزجاری کیے ،

عمرحیات نے بتایا کہ ٹائون تھری ناظم نے اپنے دورے کے موقع پر ڈینگی سے 7افراد جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے،انہوں نےشکوہ کیا کہ خیبرٹیچنگ ہسپتال میں ڈینگی کے مریضوں کا علاج تسلی بخش نہیں، مریضوںکو داخل کرنے کی بجائے انہیں گھر واپس بھیج دیاجاتا ہے ، انہوں نے دھمکی دی کہ اگر 2دن کے اندر حالات پر قابو نہ پایا گیا تو وہ ایک بار پھر سڑکوں پر احتجاج کریں گے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…