جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

سابق صدر جنرل(ر) ضیاالحق نے امریکہ سے ایٹم بم نہ بنانے کا وعد کیوں کیا تھا؟

datetime 17  اگست‬‮  2017 |

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) سی آئی اے کی نئی دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جنرل ضیاء الحق نے امریکا سے ایٹم بم نہ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔پانچ جولائی انیس سو بیاسی کوصدرضیاء الحق کا اس وقت کے امریکی صدر ریگن کے خط کا جواب منظر عام پر آگیا،

نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کی رپورٹ کے مطابق خط میں ضیاالحق نے کہا تھا کہ پاکستان جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔سی آئی کی خفیہ دستاویز میں انکشاف کیا ہے کہ صدر رونلڈ ریگن نے اپنے خط میں پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ جس پر جنرل ضیاء نے لکھا انھیں اس بات سے انتہائی تکلیف ہوئی جب امریکی سفیر نے بتایا کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے اقدامات کی مصدقہ معلومات ہیں۔صدر ضیاء نے خط میں مزید لکھا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ پاکستان کا جوہری پروگرام محدود صلاحیت رکھتا ہے۔ اس بارے میں پراپیگینڈہ کیا جارہا ہے اس کا مقصد علاقائی حالات سے توجہ ہٹانا ہے۔خیال رہے کہ سی آئی اے نے ایک کروڑ تیس لاکھ صفحات کی خفیہ دستاویزات کو بیس برس مکمل ہونے پر ڈی کلاسیفائی کیا تھا، ان دستاویزات کے منظرعام پر آنے سے سی آئی اے کی تاریخ اور سرگرمیوں سے متعلق نئی معلومات سامنے آئیں گی۔جاری کردہ خفیہ دستاویزات میں ویتنام، کوریا اور سرد جنگ کے تنازعات کے دوران سی آئی اے کی سرگرمیوں کی تفصیلات موجود ہیں۔اڑن طشتری اور اسٹار گیٹ پروگرام کی تحقیقات سے متعلق معلومات بھی جاری کی گئی دستاویزات میں شامل ہیں، دستاویزات میں متعدد معلومات اور ان کے ذرائع کوقومی سلامتی کے پیش نظرخفیہ رکھا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…