جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

2016ء میں روزگارکیلئے ساڑھے چارلاکھ پاکستانی سعودی عرب گئے لیکن2017ء میں ناقابل یقین کام ہوگیا،حیرت انگیزانکشافات

datetime 16  اگست‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی )بیورو آف امیگریشن اینڈ اورسیز ایمپلائمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں پاکستانی افرادی قوت کی برآمدات میں کمی آئی ہے۔خاص طور پر گزشتہ سال 2016 کے مقابلے میں رواں سال 2017 کے پہلے 6 ماہ میں سعودی عرب کے لیے برآمد کی جانے والی افرادی قوت صرف 17 فیصد رہی ۔رواں سال جنوری سے جون کے دوران 77 ہزار600 پاکستانی سعودی عرب گئے۔

تاہم گزشتہ سال بھر میں یہ تعداد 4 لاکھ 62 ہزار598 تھی۔خیال رہے کہ افرادی قوت کی برآمدات میں انتہائی کمی ترسیل زر پر اثر انداز ہوسکتی ہے جو مالی سال 17-2016 کے دوران گزشتہ 17 سال میں سب سے کم رہی اور سعودی عرب سے ترسیل زر گزشتہ مالی سال میں کم ہوکر 8.3 فیصد ہوگئی تھی۔یاد رہے کہ مشرق وسطی خاص طور پر سعودی عرب جانے والے مزدروں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے جو ترسیل زر کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، پاکستانی ورکرز ہر سال سعودی عرب سے 5.4 ارب ڈالر کی رقم وطن بھیجتے ہیں جو 17-2016 میں ملک کو وصول ہونے والے مجموعی ترسیل زر کا 28 فیصد سے زائد تھی۔دوسری جانب بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی ورکرز ملازمتوں سے فارغ کیے جانے کے بعد وطن واپس لوٹ رہے ہیں جس کی وجہ معاشی دبا ؤہے جو کو کم کرنے کے لیے عرب ریاستیں بیشتر ملازمتیں مقامی عربوں کو دینا چاہتی ہیں۔وطن آنے والے ورکرز کے مکمل سرکاری اعداد وشمار موجود نہیں ہیں لیکن ذرائع نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ کچھ سالوں میں 2 لاکھ 60 ہزار پاکستانی واپس وطن لوٹے ہیں۔بیورو کے مطابق رواں سال جنوری سے جون کے دوران 3 ہزار 2 سو 43 پاکستانی ورکرز ملائشیا گئے جبکہ گزشتہ سال بھر میں یہ تعداد 10 ہزار 6 سو 25 تھی۔ادھر غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر پر مسلسل دبا ؤکے باوجود حکومت نے تاحال افرادی قوت کی برآمدات میں اضافے کے لیے حکمت عملی ترتیب نہیں دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…