جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

2016ء میں روزگارکیلئے ساڑھے چارلاکھ پاکستانی سعودی عرب گئے لیکن2017ء میں ناقابل یقین کام ہوگیا،حیرت انگیزانکشافات

datetime 16  اگست‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی )بیورو آف امیگریشن اینڈ اورسیز ایمپلائمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں پاکستانی افرادی قوت کی برآمدات میں کمی آئی ہے۔خاص طور پر گزشتہ سال 2016 کے مقابلے میں رواں سال 2017 کے پہلے 6 ماہ میں سعودی عرب کے لیے برآمد کی جانے والی افرادی قوت صرف 17 فیصد رہی ۔رواں سال جنوری سے جون کے دوران 77 ہزار600 پاکستانی سعودی عرب گئے۔

تاہم گزشتہ سال بھر میں یہ تعداد 4 لاکھ 62 ہزار598 تھی۔خیال رہے کہ افرادی قوت کی برآمدات میں انتہائی کمی ترسیل زر پر اثر انداز ہوسکتی ہے جو مالی سال 17-2016 کے دوران گزشتہ 17 سال میں سب سے کم رہی اور سعودی عرب سے ترسیل زر گزشتہ مالی سال میں کم ہوکر 8.3 فیصد ہوگئی تھی۔یاد رہے کہ مشرق وسطی خاص طور پر سعودی عرب جانے والے مزدروں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے جو ترسیل زر کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، پاکستانی ورکرز ہر سال سعودی عرب سے 5.4 ارب ڈالر کی رقم وطن بھیجتے ہیں جو 17-2016 میں ملک کو وصول ہونے والے مجموعی ترسیل زر کا 28 فیصد سے زائد تھی۔دوسری جانب بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی ورکرز ملازمتوں سے فارغ کیے جانے کے بعد وطن واپس لوٹ رہے ہیں جس کی وجہ معاشی دبا ؤہے جو کو کم کرنے کے لیے عرب ریاستیں بیشتر ملازمتیں مقامی عربوں کو دینا چاہتی ہیں۔وطن آنے والے ورکرز کے مکمل سرکاری اعداد وشمار موجود نہیں ہیں لیکن ذرائع نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ کچھ سالوں میں 2 لاکھ 60 ہزار پاکستانی واپس وطن لوٹے ہیں۔بیورو کے مطابق رواں سال جنوری سے جون کے دوران 3 ہزار 2 سو 43 پاکستانی ورکرز ملائشیا گئے جبکہ گزشتہ سال بھر میں یہ تعداد 10 ہزار 6 سو 25 تھی۔ادھر غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر پر مسلسل دبا ؤکے باوجود حکومت نے تاحال افرادی قوت کی برآمدات میں اضافے کے لیے حکمت عملی ترتیب نہیں دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…