ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

سیمل کامران کے پیچھے کون ہے؟الزامات لگانے کی اصل وجہ کیا بنی؟بشارت راجہ بھی بالاخر بول پڑے

datetime 16  اگست‬‮  2017 |

لاہور(این این آئی) پاکستان مسلم لیگ کے سینئر مرکزی رہنما محمد بشارت راجہ نے کہا ہے کہ سیمل کامران برطانیہ اور امریکہ میں شہریت حاصل کرنے کیلئے الزام تراشی کر رہی ہے، اس سارے کھیل میں مرکزی کردار اس کے گاڈفادر کا ہے، اس کا ڈیٹا نادرا کے ریکارڈ میں اس کے شوہر کامران بشیر کے نام سے رجسٹرڈ ہے۔ اپنی رہائش گاہ پر اہلیہ پری گل آغا، صاحبزادے بہروز راجہ اور مسلم لیگی رہنما پروین سکندر گل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پچھلے چار پانچ ماہ سے یہ سلسلہ چل رہا ہے لیکن میں درگزر کرتا رہا،

میری شخصیت ایسی نہیں جو بیان کی جا رہی ہے، سیمل کامران مجھے بلیک میل کرنا چاہتی ہے، کبھی خود کو میری منکوحہ ظاہر کرتی اور کبھی میری ذاتی زندگی میں مداخلت کرتے ہوئے میرے فیملی کے ساتھ تعلقات کو متنازعہ بناتی ہے حالانکہ میں اپنی فیملی کے ساتھ خوش و خرم زندگی بسر کر رہا ہوں، میرا اس سے نہ پہلے تعلق تھا اور نہ اب ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمل کامران کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ چیک کر لیں سب میں اس کے شوہر کا نام کامران بشیر درج ہے، نادرا کا ڈیٹا بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ نکاح کی بابت اس کا دعویٰ جھوٹ پر ہے، اس کے خلاف بلیک میلنگ، جھوٹ، جعل سازی اور دھوکہ دہی سے متعلق دو درخواستیں تھانہ شمالی چھاؤنی میں زیر کارروائی ہیں اور ایک دعویٰ سول عدالت لاہور میں زیرسماعت ہے اس کو دوقانونی نوٹس بذریعہ وکیل بھجوائے جا چکے ہیں۔ محمد بشارت راجہ نے مزید کہا کہ سیمل کامران نے برطانیہ اور امریکہ میں سیاسی پناہ کیلئے درخواستیں دے رکھی ہیں اس بابت امریکہ اور برطانیہ کے سفارتکاروں کو ہم نے آگاہ کر دیا ہے کہ یہ فائلوں کا پیٹ بھرنے کیلئے ایسا کر رہی ہے، اس سارے کھیل میں مرکزی کردار ایک گاڈفادر سرانجام دے رہاہے، میں نے بارہا کہا ہے کہ میرا اس سے نکاح نہیں ہوا اگر نکاح ہوتا تو گواہ ہوتے، نکاح رجسٹرڈ ہوتایا مولوی ہوتا جس نے نکاح پڑھایا ہوتا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی اسے کوئی گفٹ نہیں دیا اور نہ ہی گاڑی کی رقم لی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…