بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

’’15 سال سے گمشدہ تین سعودی شہزادے‘‘ انہوں نے سعودی بادشاہ کیخلاف کیا، کیا تھا؟

datetime 16  اگست‬‮  2017 |

برسلز(این این آئی) یورپ میں رہنے والے تین سعودی شہزادے پراسرارطورپر لاپتہ ہوگئے ،یہ تینوں شہزادے ماضی میں سعودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور ان کی گمشدگی کے بارے میں ایسے شواہد ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انھیں اغوا کر کے سعودی عرب لے جایا گیا اور اس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی خبر سامنے نہیں آئی ۔غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سؤٹزرلینڈ کے شہر جینیوا میں

12 جون 2003 کو ایک سعودی شہزادے کو جینیوا سے باہر ایک محل لے جایا گیا۔اس شہزادے کا نام سلطان بن ترکی بن عبدالعزیز ہے اور وہ جس محل میں لے جایا گیا وہ اس کے رشتے دار، سعودی عرب کے سابق حکمران شاہ فہد کی ملکیت ہے۔ سلطان بن ترکی بن عبدالعزیز کو شاہ فہد کے بیٹے شہزادہ عبدالعزیز بن فہد نے ناشتے پر مدعو کیا۔عبدالعزیز بن فہد نے سلطان بن ترکی سے درخواست کی کہ وہ سعودی عرب واپس لوٹ جائیں تاکہ سعودی حکمرانوں کے خلاف ان کی جانب سے کی گئی تنقید اور خدشات کو دور کیا جا سکے مگر سلطان بن ترکی نے یہ درخواست قبول کرنے سے انکار کر دیا۔اس موقع پر عبدالعزیز بن فہد فون کرنے کے بہانے سے کمرے سے باہر گئے اور کمرے میں موجود دوسرے فرد، سعودی عرب کے وزیر برائے اسلامی امور شیخ صالح الشیخ بھی باہر چلے گئے۔ان دونوں کے جاتے ہی چند افراد کمرے میں داخل ہو گئے اور سلطان بن ترکی کو زد و کوب کیا، اور اس کے بعد انھیں ہتھکڑی پہنا کر ان کی گردن میں انجیکشن لگا دیا۔ اس بے ہوشی کی حالت میں سلطان بن ترکی کو جینیوا ایئر پورٹ لے جایا گیا جہاں سے انھیں جہاز پر سوار کرا دیا گیا۔یہ تمام قصہ سلطان بن ترکی نے اغوا ہونے کے کئی سال بعد سوئس عدالت میں بیان کیا تھا۔اس وقت سلطان بن ترکی کے لیے کام کرنے والوں میں سے ان کے افسر برائے اطلاعات ایڈی فریرا نے بعد میں بتایا کہ جس روز

سلطان ناشتے کے لیے گئے تھے، ‘وہ دن بتدریج مشکل ہوتا چلا گیا۔ ہم سلطان کی سکیورٹی ٹیم سے رابطہ کرنے میں ناکام رہے جس سے ہمیں شک پڑا کے معاملہ ٹھیک نہیں ہے۔ ہم نے شہزادے سے رابطہ کرنے کی بار بار کوشش کی لیکن ہمیں کوئی جواب نہیں ملا۔اسی دن دوپہر میں دو غیر متوقع لوگ سلطان بن ترکی کے ہوٹل پہنچے۔سوئٹزرلینڈ میں متعین سعودی سفیر اور ہوٹل کے جنرل مینیجر ہمارے پاس آئے اور کہا کہ کمرے

فوراً خالی کر دیے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ شہزادہ سلطان اب ریاض چلے گئے اور ہماری اب کوئی ضرورت نہیں ہے۔شہزادہ سلطان بن ترکی نے ایسا کیا کر دیا تھا جس کی وجہ سے ان کے اپنے خاندان والوں نے انھیں نشہ آور انجیکشن لگایا اور اغوا کر لیا؟ایک سال قبل شہزادہ سلطان علاج کرانے کی غرض سے یورپ آئے تو وہاں پہنچ کر انھوں نے سعودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے ملک میں انسانی حقوق کی پامالی کا ذکر کیا اور شاہی خاندان کے افراد پر بدعنوانی کے الزامات لگائے اور ملک میں مختلف نوعیت کی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…