ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

’’نواز شریف کی ریلی میں بچے کی ہلاکت سے متعلق تحقیقات مکمل‘‘ دھماکہ خیز انکشاف سامنے آگیا

datetime 14  اگست‬‮  2017 |

گجرات (آئی این پی )وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جی ٹی روڈ ریلی کے دوران گاڑی کی ٹکر سے 12 سالہ بچے کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی اعلی سطحی انکوائری ٹیم نے لالہ موسی میں اپنی تحقیقات مکمل کرلیں۔ پیر کو نجی ٹی وی کے مطابق ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (آئی جی)ابو بکر خدا بخش کی سربراہی میں قائم کی گئی

اعلی تحقیقاتی ٹیم نے جائے حادثہ کا دورہ کیا، ٹیم عینی شاہدین، مقتول بچے کے ورثا اور مقامی پولیس حکام کے بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد اسی روز لالہ موسی سے واپس چلی گئی۔علاوہ ازیں جس گاڑی نے جمعہ 11 اگست کو لالہ موسی میں 12 سالہ بچے کو کچل دیا تھا، کے حوالے سے یہ بتایا جارہا ہے کہ اس پر جعلی نمبر پلیٹ لگائی گئی تھی جس کے باعث قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کے مالک اور ڈرائیور تک پہنچنے میں ناکام ہیں۔تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہیں کہ واقعے کی ذمہ دار بی ایم ڈبلیو جیپ پر نمبر پلیٹ ایس ایس 875 لگائی گئی تھی تاہم یہ رجسٹریشن نمبر سوزوکی بولان کار ماڈل نمبر 2011 کے لیے محمد الیاس بٹ ولد مشتاق بٹ کے نام پر الاٹ کیا گیا تھا، جسے نواز شریف کی ریلی میں شامل پروٹوکول پر مامور بی ایم ڈبلیو جیپ کے لیے استعمال کیا گیا۔خیال رہے کہ پولیس اس بی ایم ڈبلیو کے خلاف مذکورہ رجسٹریشن نمبر کے تحت پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 320 کے تحت مقدمہ درج کرچکی ہے، جو مقتول بچے کے عزیز کی جانب سے درج کرایا گیا تھا۔تاہم سینئر پولیس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر وی وی آئی پیز کے پروٹوکول میں استعمال کی جانے والی گاڑیوں پر جعلی نمبر پلیٹ کا استعمال ایک معمول کی بات ہے۔ادھر جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے لالہ موسی میں مقتول بچے کی ‘رسم قل میں شرکت کی، جہاں گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ کیا ریلی میں موجود کسی بھی گاڑی نے رک کر بچے کو ہسپتال منتقل کیا شاید اس عمل سے ان کے والدین کے غم کی شدت کم ہوسکتی۔وفاقی وزیر برائے کیپٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ (کیڈ) طارق فضل چوہدری، وزیر مملکت برائے بین الصوبائی تعاون ڈاکٹر درشن لال، صوبائی وزیر برائے بلدیات منشا اللہ بٹ اور پاکستان مسلم لیگ (ق) خواتین ونگ کے ارکان نے بھی متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اور مقتول بچے کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…