بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

کیا آپ سپر پاکستانی بننا چاہتے ہیں؟ تو چیلنج قبول کرنا پڑے گا، وہ چیلنج کیا ہے؟ تفصیلات جانئے! 

datetime 12  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اس سال ہمیں صر ف آزادی کا جشن ہی نہیں منانا بلکہ کچھ کرکے بھی دکھانا ہے، اسی لئے پراؤڈ ڈاٹ پی کے کی جانب سے’’بی آ سپر پاکستانی‘‘ کے نام سے ایک مہم شروع کی گئی ہے جس کا مقصد آزادی کے جشن کے ساتھ ساتھ اپنے وطن عزیز کی محبت کو فروغ دینا اور انفرادی سطح پر اپنی اصلاح کرنا ہے تاکہ معاشرے کا ہر فرد صرف ایک دن کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے ’’سُپر پاکستانی‘‘ بن جائے۔

اس مہم کے تحت اس سال قومیت کے جذبے کوکم یا ختم نہیں ہونے دینا بلکہ باقی 364 دنوں کے لیے زندہ رکھنے کا وعدہ کرنا ہے اور ذمے دار شہریوں میں سے ہر ایک کو تبدیل کرنے کی کوشش کرناہے۔ مہم کا مقصد انسانیت کی کچھ خاصیت جو بھلائی جا چکی ہیں، انہیں دوبارہ زندہ کرنا اور معاشرتی سطح پر اجاگرکرنا ہے تاکہ بہتر انسان بن سکیں اور جو غیر اخلاقی عادات پنپ چکی ہیں انہیں ختم کیاجائے۔ اس مہم میں ہرعام شہری بھی شامل ہو سکتا ہے جس نے سپر پاکستانی ٹیم کی طرف سے ڈیزائن کئے جانے والے چند چیلنجوں کا سامنا کیا اور خود میں اصلاح کی کوشش کی اور پاکستانیت کے جذبے کو بڑھاوا دیا۔ مہم کے تحت آپ خود بھی آگے بڑھیں اور دوسروں کے ساتھ مل کر اس مہم کو آگے بڑھائیں تاکہ ہر پاکستانی جان لے کہ ایک سُپر پاکستانی بننے کے لیے کن کن خصوصیات کا حامل ہونا ضروری ہے۔ ایسی خصوصیات جنہیں اپنانے کے بعد آپ سپر پاکستانی بن کر ملک کی ترقی میں پہلے سے بڑھ کر کچھ اہم کردار ادا کرسکتے ہیں جو بہت ضروری ہے۔ اس مہم کے حوالے سے متعارف کرائے گئے چیلنجز کو ناصرف خود قبول کریں بلکہ دوستوں کو بھی یہ چیلنجز دیے جائیں تاکہ وہ بھی سپر پاکستانی بن سکیں۔ یہ چیلنج بالکل عام ہیں ہر خاص و عام ان چیلنجز کو پورا کرسکتا ہے،

 

بس آج سے ایک عہد کرنا ہے کہ ’’میں ہوں سپر پاکستانی اس لئے میں آ ج کے بعد کبھی بھی ایسا کام نہیں کروں گا/کروں گی جس سے کسی دوسرے کو تکلیف پہنچے یا آنے والی ہماری نسلوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے‘‘۔ ان چیلنجزکو روزمرہ کاموں میں شامل کرنا ہوگا، جیسے پانی ضائع نہ کرنا، اپنا گھر، گلی، محلہ صاف رکھنا، غلطی پر اکڑنے کے بجائے معاف کر دینا، چھوٹوں سے شفقت، بڑوں سے تحمل سے پیش آنا، دفتر میں کوئی ایسا کام نہ کرنا جس سے دوسرے کی دل آزاری ہو۔ صحت مندانہ اور پاکستانیت سے بھر پور زندگی کے رجحان کے ذریعے ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کا خیال کرکے اپنے ملک کی ترقی کا دھارا کامیابی کی طرف موڑ ا جا سکتا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…