ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، کس صوبے کی آبادی کتنی؟ مردم شماری میں حیرت انگیز انکشاف، کراچی سب پر بازی لے گیا

datetime 11  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، کس صوبے کی آبادی کتنی؟ مردم شماری میں حیرت انگیز انکشاف، کراچی سب پر بازی لے گیا، تفصیلات کے مطابق چھٹی مردم شماری 2017ء کے ابتدائی نتائج کے مطابق پاکستان کی آبادی13کروڑ 23لاکھ سے بڑھ کر اب 21کروڑ 31 لاکھ سے زیادہ ہوچکی ہے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت یہ آبادی 21 کروڑ 90 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے ہے، 1998ء سے 2017ء تک 7 کروڑ 87لاکھ سے زائد افراد کا اضافہ ہوا ہے۔

کراچی کی آبادی 98 لاکھ سے بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے زائد ہوچکی ہے، سندھ کا مجموعی طور پر کل آبادی میں حصہ 23 فیصد سے بڑھ کر 24 فیصد ہو گیا ہے، آبادی میں پانچویں مردم شماری 1998ء کے مقابلے میں مجموعی طور پر تقریباً 60 فیصد اضافہ ہوا ہے، پنجاب کے علاوہ باقی تینوں صوبوں میں شرح اضافہ کافی زیادہ ہے۔ ایک قومی روزنامہ کے ذرائع کو ملنے والے پاکستان کی چھٹی مردم شماری کے حوالے سے غیر حتمی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی کل آبادی پانچویں مردم شماری 1998ء کی 13کروڑ 23لاکھ کے مقابلے میں چھٹی مردم شماری2017ء میں بڑھ کر21 کروڑ 31 لاکھ ہوگئی ہے، اس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی آبادی شامل نہیں ہے جو 60 لاکھ کے قریب ہے اور مجموعی آبادی 21 کروڑ 90 لاکھ سے زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق 1998ء میں پنجاب کی آبادی 7 کروڑ 36 لاکھ تھی، جو چھٹی مردم شماری میں 11کروڑ 10لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔ سندھ کی آبادی3 کروڑ 4 لاکھ تھی جو اب بڑھ کر5کروڑ 10لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے، خیبر پختونخوا کی آبادی ایک کروڑ 77 لاکھ تھی، جو اب بڑھ کر3کروڑ 10لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔ بلوچستان کی آبادی 65 لاکھ تھی، جو چھٹی مردم شماری میں بڑھتے ہوئے ایک کروڑ15لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔ فاٹا کی آبادی 31 لاکھ بڑھتے ہوئے55لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔

اسلام آباد کی آبادی 8لاکھ تھی جو چھٹی مردم شماری میں بڑھ کر21لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 1998ء سے 2016ء تک 7کروڑ 87لاکھ سے زائد افراد کا اضافہ ہوا ہے، جو مجموعی طور پرتقریباً 60 فیصد اضافہ بنتا ہے۔ پنجاب میں یہ اضافہ 3 کروڑ 84لاکھ ہے، جو 52فیصد سے زائد بنتا ہے۔ سندھ میں یہ اضافہ 2 کروڑ 6لاکھ ہے جو68فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں یہ اضافہ ایک کروڑ 33 لاکھ ہے، جو 75 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔

بلوچستان میں یہ اضافہ50لاکھ ہے جو 77 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔ فاٹا میں یہ اضافہ 24 لاکھ ہے جو77 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔ ملک کے اہم شہروں کے حوالے سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق 1998ء میں اسلام آباد کی آبادی 8 لاکھ تھی، جو چھٹی مردم شماری میں بڑھ کر21 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے، اسلام آباد میں شرح اضافہ 162 فیصد رہی۔ کراچی کی آبادی 98 لاکھ سے بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ ہوگئی ہے اور یہاں شرح اضافہ 74 فیصد رہی۔

لاہور کی آبادی 63 لاکھ سے بڑھ کر ایک کروڑ 20لاکھ ہوگئی ہے اور شرح اضافہ 90 فیصد رہی۔ راولپنڈی کی آبادی 33 لاکھ سے 56 لاکھ ہوگئی ہے اور شرح اضافہ 70 فیصد رہی۔ پشاور کی آبادی 20 لاکھ تھی، جو بڑھتے ہوئے 40 لاکھ ہوچکی ہے اور شرح اضافہ 100فیصد رہی۔ کوئٹہ کی آبادی 7 لاکھ 60 ہزار تھی، جو اب بڑھ کر20 لاکھ ہوچکی ہے اورشرح اضافہ 152 فیصد رہی۔ محکمہ شماریات کے حکام نے ان اعداد و شمار کی تردید یا تصدیق سے انکارکردیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…