ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

سیاسی مقاصد کیلئے خواتین کے کندھوں کا استعمال ،پیپلزپارٹی نے بڑا مطالبہ کردیا

datetime 7  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے سیاسی جماعتوں سے سیاسی مقاصد کیلئے خواتین کے کندھے استعمال نہ کرنے کی اپیل کر دی،اپوزیشن لیڈر نے خواتین کی عزت و حیاء پر حرف آنے والی سیاست کو سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ، انہوں نے پاکستان کو درپیش خطرات پر بریفنگ کیلئے پارلیمنٹ کا ان کیمرہ مشترکہ اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ بھی کر دیا ۔پیر کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے سید خورشید شاہ نے کہا کہ ملک میں سیاست کو ایشوز پر نہیں چلایا جا رہا ہے،

سابق وزیر داخلہ نے ملک کے حالات کو خطرناک قرار دیا اور کہا کہ 5 شخصیات ان خطرات سے آگاہ ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کو تشویش ہے خطرات سے قوم کو آگاہ کیا جائے، وزیر داخلہ ایوان سے چلے گئے ہیں، سابقہ وزیر داخلہ بھی موجود نہیں ہیں، یقیناً سابق وزیر داخلہ نے پوائنٹ سکورنگ نہیں کی ہو گی، نواز شریف کا بھی بیان آیا کہ حالات بہت خراب ہیں، بولنا پڑا تو بولوں گا،چارسالوں میں واویلا کر رہے ہیں کہ پارلیمنٹ سے سیاست شروع ہوتی ہے، اس کو طاقت سمجھیں مگر باہر کی طاقت کو محور سمجھا گیا، جب کہ طاقت پارلیمنٹ دیتا ہے، کہا تھا کہ جو بوئیں گے وہی کاٹیں گے، انہوں نے بھی ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل اور بے نظیر بھٹو شہید کے ساتھ زیادتیوں کو تسلیم کیا، ایسی سیاست کی مذمت کرتے ہیں، جہاں خواتین کی عزت و حیاء پر حرف آئے، کسی کو عدالتوں کو آگے کر کے سیاست نہیں کرنی چاہیے، عورتوں کا تقدس کیا جائے، ہمیں احساس کرنا چاہیے کہ لوگ کیا سوچیں گے، کوئی لاہور میں پریس کانفرنس کروا رہا ہے کوئی یہاں بات کر رہا ہے،سیاست کیلئے اور بھی باتی ہیں، انتخابات آنے والے ہیں،30سال سے اس پارلیمنٹ میں ہوں، ہمیں نے کبھی اقتدار کیلئے سیاست نہ کی اگر وزیراعظم بننے کی سیاست کرنا چاہتے تو بھٹو پھانسی نہ چڑھتے، محترمہ بے نظیر بھٹو باہر سے واپس نہ آتیں، اگر انسانیت نہیں ہے تو ہمیں میں اور حیوان میں کوئی فرق نہیں ہے، یہ مقدس ہاؤس ہے،

وزیر داخلہ پاکستان کو درپیش خطرات سے آگاہ کریں گے، کیونکہ لوگوں میں بے یقینی پائی جاتی ہے کہ فلاں ملک کی پالیسی چل رہی ہے۔وزیر خارجہ تقرری کے بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی کا بہت بڑا مطالبہ تسلیم کرلیا گیا ہے، 70سالوں کے بعد بھی خطرات کی بات کر رہے ہیں، عوام صحت، تعلیم، پانی ،روزگار سے محروم ہیں، ہم بوڑھے ہو گئے ہیں،

سال گزرنے سے ملک مضبوط ہوتے ہیں، ہم کس طرف جا رہے ہیں، اپوزیشن کی طرف سے انہوں نے پارلیمنٹ کے ان کیمرہ اجلاس میں پاکستان کو درپیش خطرات سے آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ان خطرات کے حوالے سے ہم ساتھ دیں گے، آج کے واقعہ پر ہم دکھی بھی اور شرمسار بھی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…