ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

شاہ خاقان عباسی کے پاس کتنے ووٹ ہیں اور متحدہ اپوزیشن کے پاس کتنے ووٹ ہیں؟اہم انکشاف!!

datetime 1  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کون ہوگا اگلا وزیر اعظم؟ فیصلہ آج ہوجائے گا۔ قائد ایوان بننے کے لیے342 میں سے 100 بہتر ووٹ درکار ہیں جبکہ شاہد خاقان کے 214 ووٹ پکے ہیں ۔شاہد خاقان کے سامنے اپوزیشن جماعتیں مشترکہ امیدوار لانے میں ناکام ہوگئیں جبکہ پیپلز پارٹی نے عمران خان کے امیدوار شیخ رشید کی حمایت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے خورشید شاہ اور نوید قمر کو امیدوار بنایا ۔ایم کیو ایم کی

کشور زہرا اور شیخ صلاح الدین جبکہ جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ نے بھی کاغذات جمع کرا دیے ۔ کونسا امیدوار کس کے حق میں دست بردار ہو گا یہ سلسلہ آج دوپہر 3 بجے کےاجلاس سے پہلے تک جاری رہے گا۔مشترکہ امیدوار کی کوشش میں اپوزیشن جماعتوں کا ایک اجلاس صبح 10 بجے پھر ہو گا اور پھر ملک کا 18 واں وزیر اعظم کون ہوگایہ آج معلوم ہوجائے گا۔وزارت عظمیٰ کا تاج سر پہ سجانے کے لیے5سیاسی جماعتوں کے 6 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ اپوزیشن کوئی مشترکہ امیدوار نہ لاسکی جبکہ پاکستان تحریک انصاف مشاورت سے پہلے ہی شیخ رشید کو اپنا امیدوار بنا کر سامنے لے آئی تو باقی سب ناراض ہو گئے۔رہی سہی کسر پوری کر دی عمران خان کے خطاب میں آصف علی زرداری پر پے درپے وار نے اس کے بعد قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے چیمبر میں اپوزیشن جماعتوں کا کئی گھنٹے جاری رہنے والا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا۔اس سے پہلے شاہد خاقان عباسی امیداوار مسلم لیگ نواز، سید خورشید شاہ امیدوار پاکستان پیپلز پارٹی، سید نوید قمر امیدوار پاکستان پیپلز پارٹی، شیخ رشید احمد امید وار پاکستان تحریک انصاف، صاحبزادہ طارق اللہ امیدوار جماعت اسلامی اور کشور زہرا امیدوار ایم کیو ایم پاکستان نےاپنے ساتھی ارکان کے ہمراہ کاغذات نامذدگی جمع کرانے پارلیمنٹ پہنچے۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے تمام کے کاغذات نامزدگی اسکروٹنی کے بعد منظور کر لیےتاہم حتمی امیدواروں کے درمیان قومی اسمبلی اجلاس میں رائے شماری آج سہ پہر 3 بجے ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…