منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

انڈو نیشیا :من کی مرادیں پانے کےلئے جنسی کھیل نوجوانوں میں عام

datetime 1  اپریل‬‮  2015 |

جکارتہ (نیوز ڈیسک) من کی مرادیں پانے کیلئے دعا اور صدقہ خیرات کا رواج تو عام بات ہے لیکن انڈونیشیا کے جزیرہ جاوا پر لوگ مرادیں پوری کرنے کیلئے ایک دور دراز پہاڑ کا رخ کرتے ہیں جہاں مرد وزن مذہبی رسوم ادا کرنے کی بجائے کھلے عام جنسی کھیل کھیلتے ہیں۔یہ پہاڑ جزیرہ جاوا کے وسطی علاقے میں واقع ہے اور اس پر Gunung Kemukus نامی آشرم واقع ہے جہاں روایات کے مطابق ایک شہزادہ اور اس کی محبوبہ دفن ہیں۔ تاریخی حکایتوں کے مطابق شہزادے پنجران سمودرو نے اپنی محبوبہ کے ساتھ بھاگ کر یہاں پناہ لی اور جب وہ قربت کا تعلق استوار کررہے تھے تو اسی دوران مسلح سپاہیوں نے حملہ کرکے انہیں ہلاک کردیا۔ یہاں کے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ان کے آشرم میں آکر اجنبیوں کے ساتھ جنسی فعل کرنے سے شہزادے اور اس کی محبوبہ کی روح کو سکون ملتا ہے اور مرادیں پوری ہوجاتی ہیں۔
یہاں انڈونیشیا کے طول و عرض سے مسائل کے شکار لوگ آتے ہیں جن میں خواتین کی بڑی تعداد شامل ہوتی ہے۔ ہر 35 دن بعد خصوصی اجتماع ہوتا ہے لیکن عام دنوں میں بھی یہاں لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ لوگ کاروبار کی ترقی، مالی اور گھریلو مشکلات کے حل اور ذہنی پریشانیوں سے چھٹکارے کیلئے یہاں آتے ہیں۔ جونہی شام ڈھلتی ہے اجنبی مرد اور عورتیں اپنے لئے ساتھی ڈھونڈنا شروع کردیتے ہیں اورپھر اندھیرا ہوتے ہر درخت کے نیچے جوڑے جنسی فعل میں مشغول نظر آتے ہیں۔ یہاں یہ کام صدیوں سے جاری ہے اور ہر ماہ ہزاروں لوگ یہاں اجنبیوں کے ساتھ جنسی تعلق استوار کرتے ہیں۔
جب سے اس جگہ کی شہرت دیگر ممالک میں پھیلی ہے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد بھی یہاں آنے لگی ہے اور اب یہاں مسائل کا حل ڈھونڈنے والوں کے علاوہ ہوس پرستوں کی بھاری تعداد بھی آنے لگی ہے جن کی ضرورت پوری کرنے کیلئے یہاں جسم فروش خواتین کی بھی بہتات ہوگئی ہے۔ حکومت کئی دفعہ اس مسئلے پر قابو پانے کی کوشس کر چکی ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ بات بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…