جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

’’صدر مملکت ممنون حسین کا لاہور سے راولپنڈی تک ریل میں سفر‘‘ پاکستانی عوام کو کتنے کروڑ میں پڑا،

datetime 21  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)صدر مملکت پاکستان ممنون حسین کے لاہور سے راولپنڈی تک ریل میں سفر کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پـڑ گیا، کروڑوں کے اخراجات، مسافر بھی خوار، ریلوے نظام درہم برہم۔ روزنامہ دنیا کی ایک رپورٹ کے مطابق صدر مملکت ممنون حسین کے بذریعہ ریل لاہور سے راولپنـڈی تک کے سفر نے جہاں مسافروں کو خوار کر کے رکھ دیا وہیں ریلوے نظام

بھی درہم برہم ہو کر رہ گیا جبکہ صدر مملکت کا یہ سفر پاکستانی عوام کو کروڑوں کا پڑا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار ریل گاڑی کے ساتھ چار انجن اضافی چلائے گئے اور راستے میں بھی تین بڑے ریلوے انجن مختلف ریلوے ستیشنز پر سٹارٹ کھڑے رہے، ہزاروں اہلکار لاہور سے راولپنڈی تک مختلف ریلوے سٹیشنز پر ڈیڑھ کلومیٹر کے علاقہ میں ہر دس فٹ کے وقفے پر تعینات رہے جبکہ اس سے قبل جب کبھی بھی کسی صدر مملکت نے ریل گاڑی پر سفر کیا تو ریل گاڑی کے ساتھ صرف ایک اضافی انجن چلایا جاتا تھا۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ لاہور سے راولپنڈی تک کے تمام ریلوے سٹیشنزبھی صدر مملکت کے ریل سفر کی وجہ سے کئی گھنٹے بند رہے ہیں جبکہ صدر مملکت کے پروٹوکول کیلئے لاہور ریلوے سٹیشن پر گریڈ ایک سے لیکر گریڈ 19تک کے پچاس سے زائد افسر سارا دن کھڑے رہے جس کی وجہ سے ریلوے کا پورا نظام مفلوج ہو گیا اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لاہور سٹیشن پر ریلوے کے دفاتر جزوی طور پر کھلے رہے، ہزاروں سکیورٹی اہلکار اور گینگ مینز مختلف ریلوے سٹیشنز کے دونوں اطراف صدر مملکت کے پروٹوکول میں کھڑے رہے جبکہ ریلوے کے درجنوں افسروں کو بھی لاہور سے راولپنڈی تک صدر مملکت کے ہمراہ سفر کرنا پڑ گیا۔ درجنوں ریل گاڑیوں کا شیڈول بھی متاثر ہوا جبکہ لاہور سٹیشن کے اطراف کی سڑکیں بھی کئی گھنٹے بند رہیں جس کی وجہ سے ریل کے ساتھ ساتھ روڈ پر بھی ٹریفک نظام متاثر ہوا اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…