منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

غوروفکر

datetime 20  جولائی  2017 |

داناﺅں کی محفل لگی تھی‘ اپنے وقت کے بڑے بڑے دانشور‘ متقی اور بزرگ لوگ بیٹھے تھے‘ ایک خوش شکل اور وجیح نوجوان محفل میں آتا‘ ایک کونے میں بیٹھتا اور بغیر کچھ کہے سنے محفل میں بیٹھا رہتا‘ محفل ختم ہو جاتی تو وہ اٹھ جاتا‘ وہ روزانہ محفل میں آتا لیکن اس یہی معمول تھا‘ وہ کسی سے کوئی بات نہ کرتا‘ آخر ایک دن ایک بزرگ دانا شخص نے اس سے پوچھا‘ بیٹے آپ داناﺅں کی مجلس میں اس طرحچپ چاپ کیوں بیٹھے رہتے ہوں؟۔

نوجوان نے بزرگ کی طرف دیکھا‘ مسکرایا اور نہایت ادب سے عرض کیا‘ قبلہ! میں ڈرتا ہوں کہ کوئی مجھ سے ایسی بات نہ پوچھی جائے جس کا میں جواب نہ دے سکوں اور مجھے خواہ مخواہ شرمندگی حاصل ہو۔ نوجوان ادب سے جھک کر بزرگ کو سلام کیا اور روانہ ہو گیا اور بزرگ سے دیر تک کھڑے دیکھتے رہے۔اللہ والے خاموشی کو بھی عبادت کا درجہ دیتے ہیں‘ اس لئے جس حد تک ممکن ہو انسان خاموشرہے اور غوروفکر کرتا رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…