ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت سے جنگ کا آغاز،چین کی آخری وارننگ،دنیا بھر کے بڑے ممالک کے سفیروں کو خطرناک پیغام دیدیاگیا

datetime 19  جولائی  2017 |

بیجنگ/نئی دہلی(این این آئی) چین نے بیجنگ میں موجود غیرملکی سفارت کاروں کو واضح پیغام دیا ہے کہ ڈوکلام میں چینی فوج بھارتی اہلکاروں کے مدمقابل صبر کا مظاہرہ کررہی ہے تاہم ایسا زیادہ دیر تک نہیں کیا جائے گا۔ذرائع نے بھارتی اخبار کو آگاہ کیا کہ گذشتہ ہفتے ایک بند کمرہ بریفنگ میں چینی حکام نے بیجنگ میں موجود سفارت کاروں کو اپنے مؤقف سے آگاہ کیا۔ چینی حکومت جی20 ممالک کے رکن کئی ملکوں کو بھی اس حوالے سے علیحدہ بریفنگ دے چکی ہے۔

چین کی جانب سے سفارتی برادری کو بتایا گیا ہے کہ اصل تنازع چین اور بھوٹان کے درمیان ہے لیکن بھارتی فوجی زبردستی اس میں شامل ہونے کی کوشش کررہی ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ملک سے تعلق رکھنے والے ایک سفارت کار نے بھارتی اخبار کو بتایا کہ بیجنگ میں موجود ہمارے ساتھیوں نے بریفنگ میں شرکت کی جہاں انہیں یہ بتایا گیا کہ چینی فوج بھارتی اہلکاروں کے سامنے زیادہ دیر تک انتظار نہیں کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھیوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ بھارت چینی علاقے میں داخل ہوکر اسٹیٹس کو تبدیل کرچکا ہے۔اخبار کے مطابق سفارت کار کا یہ بیان بھارتی مؤقف سے متضاد ہے، 30 جون کو جاری ہونے والے ایک بیان میں نئی دہلی کا کہنا تھا کہ وہ حالیہ چینی سرگرمیوں پر گہری تشویش رکھتے ہیں اور اپنے تحفظات سے چینی حکومت کو آگاہ کرچکے ہیں کہ ڈوکلام میں ‘سڑک کی تعمیر مکمل ہو جاتی ہے تو اس سے چین کو انڈیا پر اسٹریٹجک برتری حاصل ہو جائے گی۔چین کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ ان کے پاس اس بات کے مضبوط شواہد موجود ہیں کہ ڈوکلام چین کا حصہ ہے اور ہمیشہ سے چین کے سرحدی رہائشیوں کے لیے روایتی چراگاہ’ رہا ہے۔سفارت کاروں کو بتایا گیا کہ بھارتی فوج کو فوری اور غیرمشروط طور پر اپنی سرحد تک محدود ہونا پڑے گا جس کے بعد ہی بھارت اور چین کے درمیان بامعنی مذاکرات کا آغاز ہوسکتا ہے۔

دریں اثناء چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بھی بھارت کو متنبہ کیا گیا کہ وہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ڈوکلام میں دخل اندازی کو آلہ کار کے طور پر استعمال نہ کرے۔چینی وزارت خارجہ نے بیان میں بھارت سے مطالبہ کیا کہ حالات کو مزید بگڑنے سے بچانے کے لیے بھارتی فوجیوں کو فوری طور پر واپس بلالیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…