بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

بھارت سے جنگ کا آغاز،چین کی آخری وارننگ،دنیا بھر کے بڑے ممالک کے سفیروں کو خطرناک پیغام دیدیاگیا

datetime 19  جولائی  2017 |

بیجنگ/نئی دہلی(این این آئی) چین نے بیجنگ میں موجود غیرملکی سفارت کاروں کو واضح پیغام دیا ہے کہ ڈوکلام میں چینی فوج بھارتی اہلکاروں کے مدمقابل صبر کا مظاہرہ کررہی ہے تاہم ایسا زیادہ دیر تک نہیں کیا جائے گا۔ذرائع نے بھارتی اخبار کو آگاہ کیا کہ گذشتہ ہفتے ایک بند کمرہ بریفنگ میں چینی حکام نے بیجنگ میں موجود سفارت کاروں کو اپنے مؤقف سے آگاہ کیا۔ چینی حکومت جی20 ممالک کے رکن کئی ملکوں کو بھی اس حوالے سے علیحدہ بریفنگ دے چکی ہے۔

چین کی جانب سے سفارتی برادری کو بتایا گیا ہے کہ اصل تنازع چین اور بھوٹان کے درمیان ہے لیکن بھارتی فوجی زبردستی اس میں شامل ہونے کی کوشش کررہی ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ملک سے تعلق رکھنے والے ایک سفارت کار نے بھارتی اخبار کو بتایا کہ بیجنگ میں موجود ہمارے ساتھیوں نے بریفنگ میں شرکت کی جہاں انہیں یہ بتایا گیا کہ چینی فوج بھارتی اہلکاروں کے سامنے زیادہ دیر تک انتظار نہیں کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھیوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ بھارت چینی علاقے میں داخل ہوکر اسٹیٹس کو تبدیل کرچکا ہے۔اخبار کے مطابق سفارت کار کا یہ بیان بھارتی مؤقف سے متضاد ہے، 30 جون کو جاری ہونے والے ایک بیان میں نئی دہلی کا کہنا تھا کہ وہ حالیہ چینی سرگرمیوں پر گہری تشویش رکھتے ہیں اور اپنے تحفظات سے چینی حکومت کو آگاہ کرچکے ہیں کہ ڈوکلام میں ‘سڑک کی تعمیر مکمل ہو جاتی ہے تو اس سے چین کو انڈیا پر اسٹریٹجک برتری حاصل ہو جائے گی۔چین کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ ان کے پاس اس بات کے مضبوط شواہد موجود ہیں کہ ڈوکلام چین کا حصہ ہے اور ہمیشہ سے چین کے سرحدی رہائشیوں کے لیے روایتی چراگاہ’ رہا ہے۔سفارت کاروں کو بتایا گیا کہ بھارتی فوج کو فوری اور غیرمشروط طور پر اپنی سرحد تک محدود ہونا پڑے گا جس کے بعد ہی بھارت اور چین کے درمیان بامعنی مذاکرات کا آغاز ہوسکتا ہے۔

دریں اثناء چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بھی بھارت کو متنبہ کیا گیا کہ وہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ڈوکلام میں دخل اندازی کو آلہ کار کے طور پر استعمال نہ کرے۔چینی وزارت خارجہ نے بیان میں بھارت سے مطالبہ کیا کہ حالات کو مزید بگڑنے سے بچانے کے لیے بھارتی فوجیوں کو فوری طور پر واپس بلالیا جائے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…