بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

پانامہ معاملہ،چوہدری نثار اور احسن اقبال میں ٹھن گئی،ایک دوسرے کو کھلم کھلا وارننگ،کیا کچھ کہہ گئے،تفصیلات منظر عام پر

datetime 16  جولائی  2017 |

اسلام آباد(آن لائن)چند دنوں تک انکار کے بعد پانامہ ایشوز سے نمٹنے کے معاملے پر حکمران جماعت اور اس کے اہم کلیدی عہدیداروں اور وزیروں کے درمیان دراڑ کھل کر سامنے آگئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے گزشتہ دن وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کو درشت الفاظ پر مشتمل جواب بھیجا جنہوں نے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل پر اپنے اس ساتھی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

وزارت داخلہ کے جاری شدہ بیان میں کہا گیا کہ کابینہ اجلاس میں وزیرداخلہ کی تقریر حکومتی وزیر(یعنی احسن اقبال) غلط اور بے دلیل بیانات سے گریز کرے۔ترجمان اسلم شاہد کا کہنا ہے کہ چوہدری نثار علی خان نے کابینہ اجلاس میں ایسا کوئی بیان نہیں دیا جو ان سے منسوب کیا جارہا ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے ایسے وزراء کی جانب سے غلط بیانات دئیے جارہے ہیں جنہوں نے حکومت کو کنارے لگا دیا ہے۔یہ رپورٹس آئی تھیں کہ چوہدری نثار نے کابینہ اجلاس میں وزیراعظم کو چاپلوسیوں اور خوشامدیوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا اور دیگر ریاستی اداروں سے نہ الجھنے کا کہا تھا،تاہم حکومت نے ان رپورٹوں کی تردید کی تھی کہ وزیرداخلہ پارٹی قیادت اور اپنے رفقاء سے کوئی اختلاف رکھتے ہیں۔احسن اقبال نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا کہ کابینہ اجلاس نے وزیراعظم کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق تھا کہ جے آئی ٹی نے اپنی تفتیش سے لیکر تکمیل تک کوئی انصاف نہیں کیا ہے،حکومت سپریم کورٹ کے سامنے اپنا دفاع کرے۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی تفتیش سیاسی ایجنڈا ہے اور کوئی احتساب نہیں ہے اور پہلے اور دوسرے دھرنے سے مختلف نہیں ہے۔کابینہ اجلاس میں ہر ایک کا اپنا نقطہ نظر تھا اور کوئی بھی پارٹی لائن یا وزیراعظم سے انحراف نہیں کر رہا۔

احسن اقبال کے مطابق چوہدری نثار نے اجلاس میں کہا کہ وہ35سال سے (ن) لیگ کے ساتھ وابستہ ہیں اور اس سے وفاداری پر فخر کرتے ہیں۔احسن اقبال نے اختلافات بارے کہا کہ ہر ایک کا اپنا نکتہ نظر اور پارٹی اس محاذ پر متحد ہے اور ہم اس بحران کا سامنا کریں گے جو ہم پر تھوپا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کے بعد تنقیدی بیان آیا جس سے نثار کو وارننگ جاری جرنا پڑی۔احسن اقبال نے یہ بھی کہا کہ جب وزیراعظم کے

خلاف سازش ہورہی ہو تو میرے کردار کی شناخت ایسے ہوگی کہ آیا میں شکایتی مراسلہ لیکر آؤں یا وزیراعظم کی حمایت کروں ماضی کی مہربانیاں مدنظر رکھ کر۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ چوہدری نثار وقت سے قبل میٹنگ چھوڑ گئے تھے اور اسی مقصد کیلئے بلائی گئی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی،جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد گزشتہ تین روز کے دوران چوہدری نثار کئی وضاحتیں جاری کرچکے ہی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…