بدھ‬‮ ، 03 جون‬‮ 2026 

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید منصور علی شاہ نے تاریخ رقم کردی

datetime 14  جولائی  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سید منصور علی شاہ اپنی خاندانی ملکیتی ٹیکسٹائل ملز کے متعلق تفصیلات منظر عام پر لے آئے۔ چیف جسٹس نے انفارمیشن کمیشن پنجاب کو تمام معلومات فراہم کردیں۔تفصیلات کے مطابق رجسٹرار ہائیکورٹ کی جانب سے انفارمیشن کمیشن کو مراسلہ بھجوایا گیا جس میں کہا گیا کہ انفارمیشن کمشنر نے ان کی خاندانی ٹیکسٹائل مل کے متعلق معلومات مانگیں

جبکہ قانون کے تحت کسی بھی سرکاری آفیسر یا شخصیت سے عوامی معاملات پر ہی معلومات لی جاسکتی ہیں۔مراسلے میں کہا گیا کہ کسی بھی شخصیت کی ذاتی معلومات کو انفارمیشن ایکٹ کے تحت حاصل نہیں کیا جاسکتا۔چیف جسٹس نے قرار دیا کہ یہ معلومات صرف اس لیے دی جا رہی ہیں تاکہ چیف جسٹس کے عہدے کا وقار برقرار رہے. مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کی جس ٹیکسٹائل مل کے ڈائریکٹر ہونے کے حوالے سے معلومات مانگی گئیں وہ سنہ 1988 میں فروخت کردی گئی تھی۔ان کے مطابق سنہ 1990 میں خریدار کو ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق یہ مل حوالے کردی گئی۔ چیف جسٹس کسی بھی کمپنی کے ڈائریکٹر نہیں ہیں نہ ہی انہوں نے کبھی خاندانی کاروبار چلایا۔مراسلے میں کہا گیا کہ چیف جسٹس نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور وکالت کے بعد بطور جج اپنے فرائض منصبی ادا کرنا شروع کیے۔ چیف جسٹس کی جانب سے اس بات کی وضاحت کی گئی کہ بطور جج نہ تو کسی کمپنی کے لیے انہوں نے قرضہ حاصل کیا اور نہ معاف کروایا۔مراسلے میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس کے بیٹے سخت علیل تھے جس پر میڈیکل بورڈ نے انہیں بیرون ملک علاج کروانے کا مشورہ دیا جس پر قانون کے مطابق انہیں 64 لاکھ روپے دیے گئے۔بیٹے کا علاج امریکا اور انگلینڈ میں ہوا جس کے بعد انہوں نے بچ جانے والے 20 لاکھ روپے بھی واپس خزانے میں جمع کروا دیے۔ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے اپنے 2016 اور 2017 کی انکم اور ویلتھ ٹیکس کی تفصیلات بھی لاہور ہائیکورٹ کی ویب سائٹ پر شائع کروا دی ہیں۔چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کے ٹیکسٹائل مل کے ڈائریکٹر ہونے کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر کی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…