جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

نواز شریف کی دولت ۔۔! مولانا فضل الرحمان نے بڑا سوال کھڑا کردیا

datetime 12  جولائی  2017 |

پشاور(این این آئی) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پاناما کیس کی درخواست کو عدالت نے پہلے فضول قرار دیا آج وہ بلا بن گئی ٗ بھارت اور امریکہ کو پاکستان کا روشن مستقبل پسند نہیں ٗ دونوں ممالک سی پیک کو سبوتاژ کر نا چاہتے ہیں ٗآج جو کچھ ہورہا ہے کیا یہ کرپشن کے خاتمے کیلئے یا نواز شریف کو ہٹانے کیلئے ہے ٗ بھاری پتھر پھینک کر بھونچال اٹھانا تحریک نہیں،

ہمیں پاکستان کو عدم استحکام کی طرف نہیں لے جانا چاہئے ٗنواز شریف کی دولت آج نظر آنے لگی کیا وہ پہلے دولت مند نہیں تھے ؟۔بدھ کو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ بھارت اور امریکہ سی پیک کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان کا روشن مستقبل انہیں پسند نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاناما کیس کی جس درخواست کو عدالت نے پہلے فضول قرار دیا آج وہ بلا بن گئی ہے۔جے یوآئی(ف) کے سربراہ نے کہا کہ آج کل پتہ بھی نہیں چلتا کہاں سے توہین کا پہلو نکال لیا جائے ٗجو کچھ ہو رہا ہے کیا یہ کرپشن کے خاتمے کیلئے ہے یا نواز شریف کو ہٹانے کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھاری پتھر پھینک کر بھونچال اٹھانا تحریک نہیں، ہمیں پاکستان کو عدم استحکام کی طرف نہیں لے جانا چاہئے جبکہ اب فیصلے فوج نہیں عوام کرتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں کتنی دوریاں تھیں اور آج دونوں سی پیک کے خلاف ایک دوسرے کے کتنے قریب آگئے ہیں، ان چیزوں کے پیچھے کچھ سیاسی مقاصد اور ایجنڈے ہیں جنہیں سمجھنا چاہئے، یہ سب کچھ سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، وزیراعظم نوازشریف کی دولت آج نظر آنے لگی کیا پہلے وہ دولت مند نہیں تھے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پانامہ کیس کا معاملہ کسی کا اقتدار میں آنے اور پیسہ کمانے کا مسئلہ ہوگا ٗہمارا یہ مسئلہ نہیں۔

ہم نے اپنے نوجوانوں کے جذبات پر کنٹرول کرنے کی جدوجہد کی ہے ٗہم نے الزامات برداشت کئے، طعنے سہے، مگر صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ داعش کی صورت میں افغانستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش ہورہی ہے۔عالمی طاقتیں پاکستان کو بھی عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمیں قومی مفادات کو سامنے رکھ کر اپنی پالیسیاں بنانی ہوں گی۔

ہمیں حقائق کے ساتھ چلنا ہے، اگر ہمارا نقطہ نظر غلط ہے تو ہمیں قائل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی نظام کے اندر رہتے ہوئے ہم اپنے اسلاف کے نظریات کی تشریح کے مشن پر کاربند ہیں۔موجودہ دور اسلام کے بقاء کی جنگ کا دور ہے۔ملکوں اور میڈیا کی سیاست خالصتا معروضی ہے۔ کسی ایک ایشو پر پوری قوم کو یرغمال بنایا جاتا ہے۔اس نوعیت کی سیاست سے جے یو آئی جوڑ نہیں کھاتی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ جے یو آئی اسلامی نظریئے کی محافظ ہے۔ ایک مذہبی اجتماع میں پچاس لاکھ افراد کی شرکت نے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔انہوں نے کہاکہ اسلامی دنیا میں اضطراب اور عدم استحکام پیدا کرنا عالمی ایجنڈا ہے ٗ آج لیبا، شام، یمن، عراق ، افغانستان وغیرہ میں یہی کچھ ہورہا ہے۔ افغانستان میں غیر ملکی افواج کی تعیناتی کا مقصد پاکستان اور وسطی ایشیاء میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔امریکہ کو توقع نہیں تھی کہ ایشیا چین کی قیادت میں سرمایہ داروں کے سامنے کھڑا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…