پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

یمن کے معاملے پر حکومت اے پی سی طلب کرے۔مولانا فضل الرحمان،پیر پگارا کا مطالبہ

datetime 30  مارچ‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)جمیعت العلمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما پیر صبغت اللہ راشدی پگارا نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ یمن کے معاملے پر اپنی پالیسی کے بارے میں قوم کو آگاہ کرنے کے لیے ایک کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) یا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرے۔انہوں نے کہا کہ مسلمان ایک ایسی صورتحال سے لاتعلق نہیں رہ سکتے، جسے حرمین شریفین، خانہ کعبہ اور روضہ رسول ﷺ کی حرمت کا دفاع قرار دیا جارہا ہے، جو کہ مسلمانوں کی تحریک کا ایک ذریعہ ہیں۔مولانا فضل الرحمان اور پیرپگارا راجہ ہاؤس پر اتوار کو ظہرانے پر ہوئی ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کررہے تھے۔جے یو آئی ایف کے سربراہ نے کہا کہ سعودی عرب پاکستانی فوج کو بھیجنے سے پہلے حکومت کو آل پارٹی کانفرنس (اے پی سی) بلانی چاہیے، تاکہ قومی مفادات کی بنیاد پر ایک پلان پر کام کیا جائے۔حرجماعت کے روحانی پیشوا پیرپگارا نے دوگھنٹے جاری رہنے والی اس ملاقات کے دوران جے یو آئی ایف کے سربراہ کے ساتھ ملکی صورتحال اور یمن میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔جے یو آئی ایف کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی احترام پر مبنی تاریخی اور برادرانہ تعلقات تھے۔ ’’ہم اس بات کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے کہ سعودی عرب نے ہر مشکل گھڑی میں ہمارے ملک کا ساتھ دیا ہے، اور ہم بھی ان کی توقع پر اترنے کی پوری کوشش کریں گے۔‘‘انہوں نے کہا کہ یمن کی صورتحال کا حل تلاش کرنے کے لیے عرب سربراہ کانفرنس طلب کرنی چاہیے تھے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ پاکستان کو ایسی کارروائی سے گریز کرنا چاہیے، جو اسلامی دنیا کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتی ہو۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں امن، یکجہتی اور بھائی چارے کے جذبے کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔‘‘ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب فوجیوں کو بھیجنا ایک مشکل معاملہ ہے، اور اسی وجہ سے حکومت کو جلدبازی میں فیصلہ نہیں کرنا چاہیے اور اس سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا ’’ہمیں سعودی عرب کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات پر بھی نظر رکھنی چاہیے، لیکن اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اسلامی دنیا کے ایک اہم ملک کی حیثیت سے پاکستان کو یمن میں جاری تصادم کے حل کی تلاش کے لیے کام کرنا چاہیے، اس لیے کہ ہم پہلے ہی افغانستان کے مسئلے میں پھنس گئے تھے اور اب تک اس سے باہر نہیں نکل سکے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے خبردار کیا کہ سامراجی طاقتیں پاکستان کو ایک اور پریشان کن صورتحال میں پھنسانا چاہتی ہیں، اور اسی لیے ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…