جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان نے امریکہ سے آنکھیں پھیر لیں، روس کے ساتھ مل کر پاکستان اب کیا کررہاہے؟امریکی میڈیا کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 9  جولائی  2017 |

واشنگٹن (آئی این پی)امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں امریکہ کا کلیدی اتحادی رہنے کے بعداب پاکستان امریکہ سے دور ہوتا جا رہا ہے اوررفتہ رفتہ اس کی چین اور روس کے ساتھ قربت پیدا ہو رہی ہے۔امریکی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں امریکہ کا کلیدی اتحادی رہنے کے بعداب امریکہ سے دور ہوتا جا رہا ہے جس پر یہ الزامات

لگتے رہے ہیں کہ وہ درجن بھر سے زائد دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ برعکس اِس کے، رفتہ رفتہ اس کی چین اور روس کے ساتھ قربت پیدا ہو رہی ہے۔دونوں بنیادی طور پر امریکہ کے حریف ہیں اور پاکستان کی بھارت کے ساتھ مخاصمت کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، جب کہ عالمی سطح پر امریکہ کے اثر و رسوخ میں شگاف نمودار ہے، ایسے میں جب صدر ٹرمپ حکمتِ عملی کے حامل اِس خطے سے متعلق اپنی بیرونی پالیسی مرتب کر رہے ہیں۔چار میں سے تین ہمسایوں۔۔ افغانستان، بھارت اور ایران۔۔ کے ساتھ پاکستان کے نچلی سطح کے تعلقات ہیں۔ اور شدت پسندی کو قابو کرنے کی کوششوں کے برعکس، حکومت قدامت پسند تحریک کو فروغ دیتے ہوئے دکھائی دیتی ہے، اور متنازع ناموسِ رسالت کے قانون کی حمایت سے دستبردار ہونے کا کوئی امکان نہیں، جس کے باعث بارہا پرتشدد ہنگامیں رونما ہو چکے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اندازا 60 عالمی دہشت گرد تنظیمیں، جنھیں امریکہ کالعدم قرار دے چکا ہے، 13 پاکستان میں ہیں، جن میں سے زیادہ تر قبائلی علاقے میں ہیں، جس کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔گذشتہ ستمبر میں دو امریکی قانون سازوں نے ایک بِل پیش کیا جس کا مقصد پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دینا تھا، چونکہ ملک داخلی طور پر پنپنے والی شدت پسندی کے انسداد میں کامیاب نہیں رہا، جب کہ اِن سے ہمسایوں کو خطرہ لاحق ہے۔

ری پبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ٹیڈ پو اور ڈانا روراباچر نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان عالمی دہشت گرد لیڈروں کی پشت پناہی کر رہا ہے اور دہشت گرد گروپوں کی حمایت کرتا ہے، جس میں حقانی نیٹ ورک شامل ہے، جو افغانستان میں افغان اور امریکی قیادت والی نیٹو افواج کو نشانہ بناتا ہے۔پاکستان اور افغانستان کے حالیہ دورے کے دوران، سینیٹر جان مکین نے کہا کہ اگر وہ(پاکستانی)اپنا رویہ نہیں بدلتے، تو بحیثیتِ قوم، ہم بھی پاکستان کے ساتھ اپنا رویہ تبدیل کرلیں۔افغانستان اور عراق میں تعینات رہنے والے سابق امریکی سفیر، زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ پاکستان کو ایک دہشت گرد ملک قرار دیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…