جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب اورمخالف خلیجی ممالک کو جھٹکا،قطر نے ایسا جواب دیدیا جس کی کسی کو توقع ہی نہیں تھی

datetime 8  جولائی  2017 |

دوحہ(آئی این پی )قطر نے اس کا بائیکاٹ کرنے والی چار عرب ریاستوں کی طرف سے اسے دہشت گردی کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے والا ملک قرار دیے جانے کے الزامات کو “بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین نے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ دوحا کی طرف سے سفارتی تنازع کو ختم کرنے کے لیے ان کے مطالبات ماننے سے انکار یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کے دہشت گرد گروپوں سے تعلقات ہیں۔

ان چاروں ملکوں کے سرکاری میڈیا پر نشر ہونے والے اس بیان میں ان ریاستوں کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر 13 مطالبات پر مبنی ان کی پیشکش اب ختم ہو گئی ہے اور انھوں نے قطر کے خلاف مزید سیاسی، اقتصادی اور قانونی اقدام کرنے کا عزم ظاہر کیا۔چاروں ریاستوں کی طرف سے اس بیانیے پر اپنا پہلا باضابطہ ردعمل ظاہر کرتے ہوئے قطر نے ان الزامات کو “بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور کہا ہے کہ یہ دوسری ریاستوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔سرکاری خبر رساں ایجنسی نے قطر کی وزارت خارجہ کے ایک ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق ریاست قطر کا موقف مصمم اور جانا پہچانا ہے کہ وہ دہشت گردی کی تمام اشکال میں مذمت کرتا ہے جاہے اس کے محرکات کچھ بھی ہوں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ قطر “ان دعووں کا جائزہ لینے اور تعاون کے لیے تیار ہے جو ریاست قطر کی خودمختاری کے مخالف نہ ہوں۔ان چاروں ریاستوں نے گزشتہ ماہ قطر سے سفارتی اور مواصلاتی تعلقات منقطع کر دیے تھے اور انھوں نے قطر سے الجزیرہ ٹی وی چینل بند کرنے اور دوحا میں ترک فوجی اڈہ ختم کرنے سمیت 13 مطالبات کر رکھے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…