جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان میں داعش نے قدم جما لئے،مجبور ہوکر افغان حکومت اب کیا کررہی ہے؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 8  جولائی  2017 |

کابل/واشنگٹن(آئی این پی)افغان حکام نے داعش کے خلاف دیہاتیوں کو مسلح کرنا شروع کر دیا۔امریکی میڈیاکے مطابق افغانستان کے دور افتادہ مشرقی علاقے تورابورا کے پہاڑی سلسلے میں، جہاں کسی زمانے میں اسامہ بن لادن نے پناہ لی تھی، داعش کے کنڑول سے آزاد سینکڑوں مقامی دیہاتیوں کا اندراج، اس دہشت گرد گروپ کے خلاف لڑنے والی ایک ملیشیا فورس کے طور پر کر لیا گیا ہے۔

صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کا ڈائریکٹوریٹ این ڈی ایس صوبہ ننگرہار کے ضلع پچیرا گام کے درجنوں مقامی مردوں کو مسلح کرنے میں مدد دے رہا ہے۔اس علاقے کی سرحدیں پاکستان کے ساتھ ملتی ہیں۔یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب افغان فورسز نے امریکی فضائی مدد کے ساتھ حال ہی میں داعش کے جنگجوں کو علاقے سے نکال دیا ہے۔صوبہ ننگرہار کے گورنر کے ترجمان عطااللہ خوگیانی نے کہا ہے کہ ہم نے ضلع پچیراگام کے علاقے میں 300 مقامی افراد کا اندراج کیا ہے جنہیں ہتھیار فراہم کر دیے گئے ہیں اور وہ جلد ہی اپنی ڈیوٹی سنبھال لیں گے۔انہوں نے مزید بتایا کہ سلامتی کے قومی ادارے نے فنڈز مہیا کیے ہیں جب کہ ہتھیار صوبائی حکومت کی طرف سے دیے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مقامی عمائدین کی مدد سے بنائی جانے والی ملیشیا کو تورا بورا کے علاقے کی سیکیورٹی اور داعش کے جنگجوں کو علاقے سے دور رکھنے کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔پچھلے مہینے داعش نے اس علاقے میں دیہاتوں اور فغان طالبان کے ٹھکانوں پر حملے کیے تھے۔ اس حملوں کے بعد مقامی آبادی داعش کو اپنے علاقے کے لیے ایک سنگین خطرے کے طور پر دیکھ رہی ہے اور وہ مسلح ہو نے کے بعد طالبان کے ساتھ مل کر داعش کو وہاں سے دور رکھنا چاہتی ہے۔تورابورا کے پہاڑی سلسلے میں غاروں کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔

یہ علاقہ دشوار گذار ہے جس کی وجہ سے ماضی میں القاعدہ نے وہاں اپنے ٹھکانے بنا لیے تھے۔ انہیں وہاں سے بے دخل کرنے کے لیے امریکہ نے دسمبر 2001 میں اس پہاڑی سلسلے پر شدید بمباری کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…