جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں انتہائی کشیدہ حالات کا ذمہ دار کون؟

datetime 7  جولائی  2017 |

نئی دلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بی جے پی کے سابق رہنما یشونت سنہا نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات بھارتی حکومت کے جھوٹے وعدوں کا نتیجہ ہے جب کہ مقبوضہ وادی کی صورتحال بہتر کرنے کیلیے پاکستان اور حریت رہنما ؤں سمیت تمام فریقین سے مذاکرات ہی واحد طریقہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر بی جے پی کے سابق رہنما یشونت سنہا نے بھی چپ کا روزہ توڑتے ہوئے کہا کہ

وادی کے حالات کئی سال سے بی جے پی حکومت کے جھوٹے وعدوں کا نتیجہ ہے جب کہ جموں و کشمیر کی صورتحال بہتر کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ پاکستان اور حریت رہنما ؤں سمیت تمام فریقین سے مذاکرات کئے جائیں۔ یشونت سنہا نے کہا کہ ہے بی جے پی حکومت جب اقتدار میں آئی تھی تو اس نے وعدہ کیا تھا کہ جموں و کشمیر کے معاملے پر بات چیت ہوگی لیکن حقیقت میں اس کی کشمیر پالیسی اس کے برعکس ہے۔سابق بھارتی وزیرخزانہ یشونت سنہا اس گروپ کا حصہ تھے جنہوں نے برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ وادی میں کشیدگی کی لہر کے بعد دو مرتبہ مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا اور حریت رہنماں سے بات کرنے کے بعد بھارتی حکومت کو ایک رپورٹ دی جس میں مقبوضہ وادی کے حالات کی صحیح عکاسی کی گئی تھی۔ بھارتی حکومت کو دی گئی رپورٹ میں بی جے پی رہنما کا کہنا تھا کہ حریت رہنما ؤں نے مقبوضہ وادی میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی سفارشات دی ہیں. جہاں صورتحال بدتر سے بدتر ہوتی جارہی ہیں کیوں کہ بڑی تعداد میں لوگ علیحدگی اختیار کررہے ہیں۔یشونت سنہا کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں ہماری جانب سے سب سے مفید مشورہ یہ دیا گیا کہ بھارتیہ جنتہ پارٹی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے اتحاد میں قومی مصالحت کے تحت اپنے ایجنڈے پر ہی عمل کرلیا جائے جس میں حریت رہنماؤں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے مذاکرات کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا جب کہ رپورٹ کی چند سفارشات پر تو عمل کیا گیا لیکن دیگر آج بھی ویسے ہی پڑی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…