جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

’’بھارتی نصاب میںمسلمانوں کے خلاف غلیظ سازش ‘‘ اذان بارے کیا کہہ دیا گیا ؟ جان کر ہر مسلمان آ گ بگولا ہو جائے گا

datetime 5  جولائی  2017 |

نئی دہلی(این این آئی)دنیا میں سب سے بڑے جمہوری اور سیکولر ملک کا دعویٰ کرنے والے بھارت میں ایک بار پھر اسکولوں میں پڑھانے جانے والے کتابوں کے متنازع نصاب کا معاملہ سامنے آیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق کونسل فار دی انڈین اسکول سرٹیفکیٹ ایگزامنیشنز (سی آئی ایس ای) کے ماتحت اسکولوں میں چھٹی جماعت کے طلبہ کو پڑھائے جانی والی سائنس کی ایک کتاب میں طلبہ کو

صوتی آلودگی ایک تصویر کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔طلبہ کو تصویر کے ذریعے شور شرابے سے پیدا ہونے والی آلودگی سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔اس تصویر میں ٹرین، کار، ہوائی جہاز اور ایک مسجد سمیت ایک شخص کو دکھایا گیا ہے، جو تمام چیزوں سے اٹھنے والے شور کی وجہ سے اپنے ہاتھوں سے اپنے کان بند کرلیتا ہے۔تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ جہاز، ٹرین، کار اور مسجد سے شور شرابے کی لہریں اٹھ رہی ہیں، جو صوتی آلودگی کا سبب بن رہی ہیں۔بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق اس تصویر کے ساتھ سبق میں واضح کیا گیا ہے کہ شور شرابے کی آلودگی کن چیزوں سے اٹھتی ہیں، اور اس سے لوگ کیسے متاثر ہوتے ہیں۔نصابی کتاب میں شور شرابے والی دیگر چیزوں کے ساتھ مسجد اور اس کے اوپر سے شور شرابے کی لہروں کو اٹھتے ہوئے دکھانے کے خلاف کئی لوگوں نے سوشل میڈیا پر پبلشرز اور سی آئی ایس ای کو تنقید کا نشانہ بنایا۔سوشل میڈیا پر تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد پبلشر ہیمنت گپتا نے معزرت کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ کتاب کے آئندہ ایڈیشن میں اس تصویر کو ہٹالیا جائے گا۔

اپنے بیان میں پبلشر نے کہا کہ اگر اس تصویر کے شائع ہونے سے کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو پبلشر ان سے معذرت خواہ ہے۔خیال رہے کہ اس کتاب کو ہیمنت گپتا کے پبلشر ہاؤس سنیہا نے شائع کیا تھا، اس کتاب کی تصاویر گزشتہ ہفتے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تھیں۔سوشل میڈیا پر بھرپور تقید کے بعد کتاب کے پبلشر نے معزرت کرلی، تاہم حکومت یا سی آئی ایس ای کی جانب سے پبشلرز کے خلاف کسی کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا۔یہ ادارہ بھارت میں 1952 میں بنایا گیا تھا، اس کے پہلے چیئرمین مولاناعبدالکلام آزاد تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…