جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

آپریشن ردالفساد کا کوئی فائدہ نہیں اسے بند کیا جائے ہمارے جوان شہید ہورہے ہیں، مصطفی کمال

datetime 3  جولائی  2017 |

کراچی (آئی این پی) سربراہ پاک سرزمین پارٹی مصطفی کمال نے کہا ہے کہ آپریشن ردالفساد کا کوئی فائدہ نہیں اسے بند کیا جائے ہمارے جوان شہید ہورہے ہیں، اور حکمران مزید دہشتگرد پیدا کررہے ہیں، آپ کو ہتھیاروں والے دہشت گرد نظر آرہے ہیں،اصل دہشت گرد ملک کے حکمران ہیں حکمران دہشتگرد بنانے والی فیکٹریاں ہیں،آصف زرداری سے بڑا دہشتگرد بنانے والا کوئی نہیں، کیا کرپٹ وزرا اور بیوروکریٹس لاپتہ نہیںہوسکتے

اداروں کے کرپٹ سربراہان لاپتہ ہوں تو نظام ٹھیک ہوجائے گا، حکمرانوں کے رویے سے مایوس عوام انتہا پسندی کی طرف جارہے ہیں، پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا جمشید دستی کو ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا ۔جمشید دستی کی جان کو خطرہ ہے۔ناجائز مقدمے بنائیں گئے۔جمشید دستی کو رہا کیا جائے۔ہم نے 16نکات پر 18روز دھرنا دیا۔ حکومت نے ہمارے جائز مقدمات پر کان نہیں دھرے۔ نوازشریف پر مشہور زمانہ پانامہ کیس چل رہاہے۔عمران خان پر بھی مقدمہ چل رہاہے۔ ان حکمرانوں کے ہوتے ہوئے آپریشن ردالفساد کا کوئی فائدہ نہیں ۔حکمران ان لوگوں کو دہشتگردی بنارہے ہیں۔ حکمران دہشتگرد بنانے والی فیکٹریاں ہیں آپریشن ردلفساد کا کوئی فائدہ نہیں آپریشن کو بندکیا جائے۔ہمارے جوان شہید ہورہے ہیں آپ کو ہتھیاروں والے دہشتگرد نظر آرہے ہیں اصل دہشتگرد ملک کے حکمران ہیں۔ آصف زرداری سے بڑا دہشتگرد بنانے والا کوئی نہیں۔ اداروں کے کرپٹ سربراہان لاپتہ ہوں تو نظام ٹھیک ہوجائے گا۔انھوںنے کہا کہ حکمرانوں کو ٹھیک نہیں کرسکتے ۔تو دہشت گرد کیسے ختم ہوں گے۔ حکمرانوں کے رویے سے مایوس عوام انتہا پسندی کی طرف جارہے ہیں۔ عوام نے فیصلہ کرنا ہے ۔انھوں نے کہا کیا کے الیکٹرک کا سی ای او دہشت گرد نہیں ہے؟ اتنے کرپٹ وزرااور بیوروکریٹ کیا یہ لاپتہ نہیں ہوسکتے ۔متحدہ بانی خود کو بابائے مہاجر قوم کہتا ہے بابائے مہاجر قوم پاکستان کو ہی گالیاں نکالتا ہے اگریہ بابا ئے مہاجر قوم ہیں تو میں اس قومیت سے دستبردار ہوتا ہوں۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…