جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

اسرائیل کی مسلمانوں کیخلاف ایک اور سفاکیت سامنے آگئی

datetime 24  جون‬‮  2017 |

تل ابیب(آن لائن) فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیل فوج کے مظالم کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں لیکن اب میڈیا رپورٹس کے ذریعے انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی ڈاکٹر بھی سفاکیت کے معاملے میں کسی سے کم نہیں اور انہوں نے 1950 کے عشرے میں لاپتا ہونے والے ایک ہزار مسلمان بچوں کو اپنے تجربات کی بھینٹ چڑھا دیا تھا۔ا غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیل کے قیام کے کچھ عرصے بعد ہی، 1950 کی دہائی

میں یمن، مشرق اور بلقان سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار بچے اسرائیل میں اچانک لاپتا ہوگئے تھے اور کسی کو یہ معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ انہیں زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔اس واقعے کی چھان بین کے لیے برسوں بعد اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک خصوصی تحقیقاتی کمیشن بھی تشکیل دیا تھا جس نے 97-1996 میں اپنی رپورٹ مرتب کر لی تھی لیکن وہ رپورٹ منظرِ عام پر نہیں لائی گئی تھی۔اب اسرائیلی میڈیا کی خبروں میں انکشاف ہوا ہے کہ ان مسلمان بچوں پر اسرائیلی ڈاکٹروں نے خفیہ طور پر طبی تجربات کیے تھے اور میڈیا پر اس حوالے سے خبروں کی اشاعت کے بعد لاپتا یمنی بچوں سے متعلق اسرائیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا ہے۔مزید تفصیلات سے معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی ڈاکٹروں پر خفیہ طبی تجربات کے یہ الزامات ان بیانات پر مبنی ہیں جو انہوں نے 20 سال پہلے ریکارڈ کرائے تھے جبکہ ان بیانات پر مشتمل ایک رپورٹ چند روز قبل اسرائیلی پارلیمنٹ میں مذکورہ لاپتا بچوں کے معاملے پر تشکیل دی گئی خصوصی کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ جو بچے ان طبی تجربات کے دوران مر گئے تھے ان کے والدین کی اجازت کے بغیر ان کا پوسٹ مارٹم تک کر دیا گیا تھا۔کمیٹی کی خاتون سربراہ نوریت کورین نے اعتراف کیا کہ ان بچوں کو تحفظ دینا چاہیئے تھا مگر انہیں غائب کر دیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی

تسلیم کیا کہ غائب کیے جانے والے بعض بچوں کے والدین کو ان کی موت کا سرٹیفکیٹ تک نہیں دیا گیا بلکہ انہیں صرف زبانی طور پر بتایا گیا کہ ان کے بچے مر چکے ہیں، جب انہوں نے اپنے بچوں کی لاشوں کا مطالبہ کیا تو انہیں وہ بھی نہیں لوٹائی گئیں اور وہ اپنے بچوں کی تدفین تک نہیں کرسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…