جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

راجیوگاندھی کے قاتل کی انوکھی خواہش ،بھارت میں نئی بحث شروع ہوگئی

datetime 23  جون‬‮  2017 |

نئی دہلی (این این آئی)سابق بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کے قتل کے جرم میں ملوث مجرم سری لنکن شہری رابرٹ نے جیل حکام سے خودکشی کی اجازت مانگ لی ہے۔رابرٹ پیاس نے تمل ناڈو کی ریاستی حکومت سے استدعا کی ہے کہ انہیں رحم کی بنیاد پر مرنے کی اجازت دی جائے ۔بھا رتی میڈیا کے مطابق رابرٹ سری لنکا کے شہری ہیں اور راجیو گاندھی کے قتل کے سلسلے میں تمل ٹائیگرز کے جن سات سابق

ارکان کو قید کی سزا ہوئی تھی وہ ان میں سے ایک ہیں، ساتوں مجرم عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔رابرٹ نے حکام سے اپیل کی کہ ان کے اہل خانہ بھی اب ان سے ملاقات کیلئے نہیں آتے اور اب ان کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں رہا ٗوہ گزشتہ 26 برسوں سے جیل میں ہیں ۔میڈیارپورٹ کے مطابق تامل ناڈو کی ریاستی حکومت اس بات کی کوشش کرتی رہی ہے کہ 25برس سے بھی زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد ان قیدیوں کو جیل سے رہا کر دیا جائے تاہم سپریم کورٹ اس کے خلاف ہے۔عدالت نے 2014میں مرکزی حکومت کی ایک درخواست کی بنیاد پر کہا تھا کہ ان قیدیوں کو آزاد کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہو گا۔اس وقت مرکز میں منموہن سنگھ کی حکومت تھی اور حکومت نے ان قیدیوں کی رہائی کی مخالفت کی تھی۔خیال رہے کہ راجیو گاندھی کو 21مئی 1991میں جنوبی ہند کے سری پیرمب دور میں ایک انتخابی ریلی کے دوران ہلاک کر دیا گیا تھا اس قتل کے الزام میں سنتھن، مروگن، پیراریولن، نلنی، رابرٹ پیاس، جے مار اور روی چندرن جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…