جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں تباہی کے منصوبوں میں کن 2افراد نے مددکی؟ ،’’را‘‘نے بلوچستان کےلئے کیامنصوبہ ہے،پاکستان میں کون سے مقصد کےلئے بھیجاگیا؟کلبھوشن یادیوکادھماکہ خیزنیاویڈیوبیان جاری

datetime 22  جون‬‮  2017 |

راولپنڈی (آئی این پی)بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رحم کی اپیل کردی۔جمعرات کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اپنی اپیل میں کلبھوشن نے پاکستان میں جاسوسی، دہشت گردی اور تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر پشیمانی کا اظہار کیا ہے ۔کلبھوشن یادیو نے آرمی چیف سے

دہشت گردی کی کارروائیوں پر معافی مانگتے ہوئے رحم کی درخواست کی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ کلبھوشن یادیو نے اپنی سزائے موت کے خلاف ملٹری اپیلٹ کورٹ میں بھی نظرثانی درخواست دائر کی تھی، جسے مسترد کردیا گیا تھا۔آرمی چیف اگر اپیل مسترد کرتے ہیں تو آخری اپیل صدر کو بھیجی جاسکتی ہے۔آئی ایس پی آر کی جانب سے کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کی نئی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے، جس کا مقصد دنیا کو پاکستان کے خلاف بھارت کے مذموم مقاصد سے آگاہ کرنا ہے۔اعترافی بیان کی نئی ویڈیو میں بھارتی جاسوس نے کہا کہ میں کمانڈر کلبھوشن سدھیر یادیو ہوں، میرا ہندوستانی نیوی کا نمبر 41558 زولو ہے، میں بھارتی بحریہ کا کمیشنڈ افسر ہوں جبکہ میرا کوڈ نام حسین مبارک پٹیل ہے۔ میں پاکستان کے بحری اثاثوں سے متعلق معلومات کے حصول کی غرض سے دو مواقع پر کراچی میں 2005 اور 2006 میں جاچکا ہوں، جس کے نتیجے میں میں نے کراچی کے اطراف کے علاقوں میں پاک بحریہ کی ساحلی علاقوں پر تنصیبات اور اثاثوں اور ان کے علاوہ جو معلومات حاصل کرسکا حاصل کیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را نے یہ محسوس کرلیا تھا کہ 2014 میں نریندر مودی کی حکومت ہوگی، لہذا میری خدمات را کے سپرد کردی گئی، میری بنیادی ذمہ داری مکران کے ساحلی علاقوں، کراچی، بلوچستان، کوئٹہ اور تربت کے علاقوں میں

ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں پر نظر رکھنا، ان کو پایہ تکمیل تک پہنچانا اور اس سلسلے میں تمام انتظامات احسن طریقے سے نبھانا تھی۔کلبھوشن یادیو نے کہا کہ اس سلسلے میں میری ملاقات انیل کمار اور الوک جوشی سے ہوئی، جس میں کراچی اور مکران کوسٹ میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی گئی۔اس نے کہا کہ میں ایران کے شہر چاہ بہار میں رہا اور وہاں کامنڈا ٹریڈنگ کمپنی کے نام سے حسین مبارک پٹیل کے نام سے کاروبار کرتا رہا، یہ ایک خفیہ اور سفارتی آپریشن تھا جس کا مقصد بلوچ مزاحمت کاروں اور دہشت گردوں سے ملاقات کرنا تھا۔اس کا کہنا تھا کہ ان ملاقاتوں مقصد ہمیشہ اہداف اور مقاصد کو سامنے رکھ کر مزاحمت کاروں کو دہشت گردانہ سرگرمیاں سر انجام دینے سے متعلق آگاہ کرنا اور ان کی طرف سے کسی بھی مدد کی پوچھ گچھ کرکے را کو مطلع کرنا تھا۔

بھارتی جاسوس کا کہنا تھا کہ اس بار میرا پاکستان آنے کا مقصد بلوچ عسکریت پسندوں ( بی ایل اے/ بی آر اے) کی قیادت سے مل کر مکران کوسٹ سے ساحلی پٹی تک 30 سے 40 را اہلکاروں کو گھسانا اور ان کو تیار کرنا، جن کی مدد سے مکران کوسٹ کی ساحلی پٹی پر عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں کے ساتھ مل کر دہشت گردانہ کارروائیاں کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ بنیادی مقصد را اہلکاروں کی پاکستانی سرزمین پر موجودگی کو یقینی بنانا تھا تاکہ وہ بلوچ عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کو فوجی انداز میں انجام پر پہنچا سکیں، بلوچستان کے سمندری علاقے میں کوئی تحریک نہیں تھی، سو اس لیے مقصد تھا کہ بلوچ عسکریت پسندوں کا ایک ایسا گروہ تیار کیا جائے جس کی مدد سے ساحلی علاقوں اور خطے کوئٹہ اور تربت اور جہاں بھی را حکم دے وہاں کارروائیاں کی جاسکیں۔

اسکا کہنا تھا کہ جب میں نے را کے لیے کام کرنا شروع کیا تو میری ترجیح کراچی اور بلوچستان تھی، سب سے پہلے اس بات پر غور کیا گیا کہ ان علاقوں میں جو بھی عسکریت پسند موجود ہیں، انہیں مالی مدد کے علاوہ ان تک سمندری راستے کے ذریعے اسلحہ، گولہ اور بارود پہنچانے کو یقینی بنایا جائے۔کلبھوشن نے کہا کہ میرا تعلق بحریہ سے ہے، اور مجھے یہ کام دیا گیا کہ کسی طریقے سے اپنے لوگوں کو بذریعہ سمندر یہاں پہنچایا جائے، گوادر، جیونی یا مکران کے قریب کسی بھی بیلٹ پر جہاں آسانی سے ہوسکے، اس کا مقصد یہ تھا کہ پاک-چین اقتصادی راہداری کے ذریعے پاکستان سے لے کر چین تک جتنی بھی راہداری ہے اس کو نقصان پہنچایا جائے، ا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…