پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی علمی فراست

datetime 21  جون‬‮  2017 |

امیر المؤمنین حضرتِ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے زمانہ ء خلافت میں حضرتِ سَیِّدُنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کی تو ان سے فرمایا:” اے حذیفہ ! تم نے صبح کیسے کی ؟” عرض کی:” اے امیرالمؤمنین! میں نے اس طرح صبح کی کہ فتنے سے محبت کرتا ہو ں اور حق کو ناپسند کرتا ہوں اور وہ کہتا ہوں جو پیدا نہیں ہوا اور اس بات کی گواہی دیتاہوں

جسے میں نے دیکھا نہیں اور بغیر وضو کے صلوٰۃ پڑھتا ہوں اور میرے پاس زمین پرایک ایسی چیز ہے جو اللہ عزوجل کے پاس آسمانوں میں نہیں ہے۔” تو سیدنا عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بات پر شدید غضبناک ہوگئے اور ان کی گرفت کا ارادہ فرمایا مگرپھر ان کی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صحبت یعنی صحابیت کا خیال آیا تو رُک گئے ۔اسی اثناء میں باب علم حضرتِ سَیِّدُنا علی المر تضی کرم اللہ وجہہ الکریم وہاں سے گزر ے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چہرہ پر غضب کے آثار ملاحظہ فرمائے تو پوچھا:” اے امیر المؤمنین! آپ کو کس بات نے غضبناک کیا ہے ؟” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پورا قصہ سنادیاتو حضرتِ سَیِّدُنا علی المر تضی کرم اللہ وجہہ الکریم نے کہا:” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان سے ناراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ان کا قول کہ”میں فتنے سے محبت کرتاہوں ۔” اللہ عزوجل کے اس فرمان کی تاویل ہے :اِنَّمَاۤ اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ ؕ ترجمہ :تمہارے مال اور تمہارے بچے جانچ (آزمائش ) ہی ہیں ۔(پ28،التغابن:15) اور ان کے اس قول کہ” میں حق کو ناپسند کرتا ہوں۔” میں حق سے مراد موت ہے جس سے کسی کو چارہ نہیں اورنہ کوئی اس سے بچ سکتاہے او را ن کے اس قول کہ” وہ بات کہتا ہوں جو پیدا نہیں کی گئی”سے مراد قرآن پاک ہے کہ یہ قرآن پڑھتے ہیں اور قرآن مخلوق نہیں اور ان کے ا س قول کہ” اس بات کی گواہی دیتاہوں جسے میں نے دیکھا نہیں”کا مطلب یہ ہے کہ اللہ عزوجل کی تصدیق کرتاہوں حالانکہ اسے دیکھا نہیں اور ان کے ا س قول کہ” بغیر وضو صلوٰۃ پڑھتا ہوں ۔”

کامطلب یہ ہے کہ یہ نبی مکرَّم ،رَسُول ِاکرم ،شہنشاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر بغیر وضو کے درودِپاک پڑھتے ہیں ،ان کے ا س قول کہ” میرے پاس زمین پر ایسی چیز ہے جو اللہ عزوجل کے پاس آسمانوں میں نہیں ہے۔” سے مراد بیوی اور بچے ہیں کیونکہ اللہ عزوجل کے پاس ان میں سے کوئی چیز نہیں۔ حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :” اے ابو الحسن ! اللہ آپ پر رحم فرمائے ۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو کتنی ذہانت سے نوازا ہے، بے شک آ پ نے میرا ایک بہت بڑا مسئلہ حل کردیاہے ۔”

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…