پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

اللہ کا محبوب بننا چاہتا ہوں

datetime 21  جون‬‮  2017 |

بابا جی جب سے مدینہ شریف سے واپس آئے تهے کچھ چپ چپ سے تهے۔ میں تسبیح کرتے ہوئے بابا جی کی طرف دیکھ رہا تها۔ ایسی کیفیت بابا جی کی تب ہوتی جب کوئی خاص پیغام ملتا ان کو اور پهر امت کے لئے توبہ،استغفار کرتے ہوئے راتیں گزرتی ان کی اور امت کے لیے روتے رہتے۔ منگول بابا جی کے پیر دبا رہا تها۔ ہم تینوں میں خاموشی سی چهائی ہوئی تھی کہ اچانک میں نے خاموشی کو توڑتے ہوئے بابا جی سے پوچھا بابا جی !

اس دنیا کا نظام کیسے چل رہا ہے اور نبی کریم ﷺ کا اس میں کتنا اختیار ہے ؟ بابا جی زرا سوچ کر بولے “پتر” جی اوپر آسمانوں میں ایک درخت ہے سدرتہ المنتہی جس کے اوپر بہت سے خاص فرشتے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سمیت تشریف فرما ہیں۔ لوح محفوظ سے پیغام اس درخت تک آتا ہے اس کے بعد ایک فرشتہ وہ پیغام لے کر مسجد نبوی میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ اس کے اس پیغام کو حکم کی صورت میں متعلقہ رجال الغیب کو دے دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس حکم پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ رجال الغیب انسانوں میں سے ہی ہوتے ہیں مگر پس پردہ اس دنیا میں نظام کو چلا رہے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اہل تکوین ہوتے ہیں۔ (Administration of ALLAH) یہ اولیاءکرام کی خاص لائن میں سے ہوتے ہیں یہاں بابا جی نے رجال الغیب کو پہچاننے کی ایک نشانی بهی بتائی تهی۔ ان کو اللہ نے فرشتوں سے بهی زیادہ طاقت عطاء کی ہوتی ہے ۔ طاقت زیادہ اس لئیے زیادہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ نفس کے ہوتے ہوئے بھی عشق میں ڈوب کر وہ عبادت کرتے ہیں جو فرشتے بھی نہیں کر سکتے۔ جب ان لوگوں کی روحانی ڈیوٹی کسی علاقے میں لگتی ہے تو ان کو زیادہ کهانے پینے سے نبی کریم ﷺ منع فرما دیتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ چائے یا قہوہ پی سکتے ہیں تاکہ غنودگی طاری نا ہو اور روحانی ڈیوٹی میں کوتاہی سرزد نا ہو۔ پهر بابا جی نے پاکستان میں موجودہ رجال الغیب اور ابدال کے بارے میں بتایا اور چہرے بهی دکهائے ان ہستیوں کے اور نام بھی بتائے۔

پهر بابا جی نے ایک کاغذ کے ٹکڑے کو نکال کر میرے ہاتھ میں تهما دیا کہ یہ پڑھ لینا اللہ سوہنا تیرا نام غوثوں،قطبوں،ابدالوں میں لکھ دے گا اس کاغذ کو کهول کر میں نے دیکها اور دیکهتے ہی میں نے سوچے سمجھے بغیر وہ کاغذ بابا جی کو واپس کر دیا اور بولا بابا جی میں یہ ولایت کے درجے پانے کےلئے نہیں پڑھ سکتا مجهے نبی کریم ﷺ سے شرم آتی ہے کہ اب بهی سودا ہی کروں ان سے۔

ہاں مگر نبی کریم ﷺ کے احسانوں کو سامنے رکھ کر یہ پڑھ سکتا ہوں۔ بابا جی یہ سن کر مسکرا پڑے اور بولے سودا تو بہت بڑا کیا ہے تم نے آج اپنے نبی ﷺ سے۔ بابا جی اگر میں پوچهوں کہ میں اللہ کا محبوب بننا چاہتا ہوں تو کیا کرنا ہو گا مجهے ؟ بابا جی نے ایک اور کاغذ نکال کر مجهے دیا جس پر لکھا تھا ” اگر توں چاہتا ہے کہ اللہ تجهے اپنا محبوب بنا لے اور توں اللہ کا محبوب بن جائے تو اللہ کی مخلوق کو اللہ کے قریب کر دے “

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…