جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

دس سالہ بچہ اغواء کے بعد بیدردی سے قتل ،گرفتارملزم کا بچے سے کیا رشتہ تھا؟ اور کیوں قتل کیا؟افسوسناک انکشافات

datetime 18  جون‬‮  2017 |

حافظ آباد(آئی این پی)حافظ آباد میں پولیس نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران دس سالہ بچے کو اغواء4 کے بعد بیدردی سے قتل کرنے والے ملزم کو کوئٹہ سے گرفتار کر لیا۔ ملزم کی نشاندہی پر پولیس نے مقتول کی باقیات برآمد کر کے ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے لیبارٹری بھجوا دیں۔حافظ آباد کے علاقہ ذوالفقار کالونی کے رہائشی سہیل عباس کے دس سالہ بیٹے فضل عباس کو اسکے قریبی رشتہ دار زاہد علی نے نو اپریل کو اغواء4 کیا

اوراسے بیدری سے گلے دبا کر قتل کرنے کے بعد اسکی لاش کو قریبی کھیتوں میں دفن کر دیا اور فرار ہو گیا۔ ڈی پی او ڈاکٹر سردار غیاث گل کی ہدایت پر ڈی ایس پی صدر رانا محمد اسلام،ایس ایچ او تھانہ سٹی اعجاز بٹ اور سی آئی اے کی ٹیم نے ملزم زاہد کو اڑھائی ماہ کی کوشش کے بعد کوئٹہ سے گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے ملزم کی نشاندہی پر قلعہ رامکور کے قریب کوٹ نکہ برانچ نہر کے قریبی کھیتوں میں دفن کی جانے والی مقتول کی باقیات برآمد کر لیں۔ڈی پی او حافظ آباد ڈاکٹر سردار غیاث گل کا کہنا تھا کہ ملزم زاہد مقتول کے والدین کا قریبی رشتہ دار ہے اور خاندانی جھگڑے کی بنا پر اس نے دس سالہ معصوم فضل عباس کو اغواء4 کیا اور اغواء4 کے اگلے روز ہی اسے بیدردی سے قتل کر کے لاش کھیتوں میں دفن کر کے فرار ہو گیا۔ملزم کی گرفتاری کیلئے تشکیل کردہ خصوصی ٹیم نے مختلف شہروں میں چھاپے مارے تا ہم اڑھائی ماہ کی سخت کوشش کے بعد ملزم کو کوئٹہ سے گرفتار کر لیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ مقتول کی باقیات ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے لاہور لیبارٹری بھجوا دی گئیں ہیں۔مقتول فضل عباس اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔بیٹے کے قتل پر والدہ غم سے نڈھال ہے انکا کہنا تھا کہ جس طرح ملزم نے انکے بیٹے کو بیدردی سے قتل کیا اسے بھی اسی طرح عبرتناک سزا ملنی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…