جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

پورے امریکہ کو اندھیروں میں ڈبونے کا ایسا روسی منصوبہ جس سے بچنا نا ممکن ہو گیا

datetime 18  جون‬‮  2017 |

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا میں سائبر سیکیورٹی ماہرین نے الزام لگایا ہے کہ روسی حکومت کی سرپرستی میں وہاں کے ہیکرز نے ایک ایسا سائبر ہتھیار بنا لیا ہے جو بجلی گھروں میں نصب کمپیوٹروں کو نشانہ بنا کر بجلی کی پیداوار اور ترسیل کا نظام درہم برہم کر کے پورے امریکا کو اندھیرے میں ڈبو سکتا ہے۔اس بات کا انکشاف چند روز پہلے امریکی حکومت کو خدمات فراہم کرنے والی سائبر سیکیوریٹی فرم ڈریگوس نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے

جس کے کچھ حصے امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک تازہ خبر میں شائع بھی کیے ہیں۔تفصیلات سے معلوم ہوا ہے کہ سائبر سیکیورٹی اور ہیکنگ کے امریکی ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم گزشتہ سال امریکی صدارتی انتخابات میں روسی ہیکروں کی مبینہ مداخلت کی تحقیق میں مصروف ہے جبکہ اس ٹیم میں مختلف نجی اداروں سے ماہرین بھی شامل کیے گئے ہیں۔ان ہی تحقیقات کے دوران غیر متوقع طور پر انکشاف ہوا کہ گزشتہ سال یعنی 2016میں روسی حکومت نے اپنے ہیکروں سے کچھ ایسے خاص وائرس یا سائبر ہتھیار بھی تیار کروائے تھے جن کی مدد سے کسی بھی بجلی گھر کا نظام شدید طور پر متاثر کیا جا سکے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ کریش اوور رائیڈ نامی اس وائرس کو دسمبر 2016میں یوکرین کے بجلی گھر پر آزمایا گیا تھا جہاں اس نے بجلی گھر کے صرف ایک پیداواری یونٹ کو کامیابی سے متاثر کیا اور بجلی کی پیداوار رکوا دی۔خدشہ ہے کہ معمولی ترمیم کے بعد یہی وائرس امریکی بجلی گھروں کو بھی ناکارہ بنانے میں استعمال کیا جاسکے گا کیونکہ دنیا بھر میں بجلی گھروں سے منسلک کمپیوٹر اور ان پر چلنے والے پروگرام کم و بیش ایک ہی جیسے ہوتے ہیں۔ اس خدشے کو یوں بھی تقویت پہنچتی ہے کیونکہ حالیہ برسوں کے دوران امریکی اہداف کو نشانہ بنانے میں روسی ہیکروں کی دلچسپی مسلسل بڑھتی جارہی ہے جو امریکی نقطہ نگاہ سے شدید خطرے والی بات ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی اس خبر پر اب تک امریکا کی نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی اور دوسرے متعلقہ اداروں نے کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا جبکہ ساتھ ہی ساتھ روس کی جانب سے امریکی بجلی گھروں پر سائبر حملوں کا معاملہ بھی صرف ایک امکان کی صورت موجود ہے۔ البتہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ یہ امکان کب، کیسی اور کس حد تک خطرناک حقیقت کا روپ دھار لے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…