پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایسے وزیراعظم جن کو شوق تھا نئے شادی شدہ جوڑوں کو کھانے کی دعوت دینا

datetime 16  جون‬‮  2017 |

تحریر:جاوید چودھری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فیروز خان نون کا اپنا ذاتی باورچی جو کراچی میں ان کے ذاتی گھر میں رہتا تھا۔ دن میں دو مرتبہ وزیراعظم اور ان کے سارے عملے کا کھانا دفتر پہنچانا اس کی ذمہ داری ہوتی تھی جسے وہ وزارتِ عظمیٰ کے آخری وقت تک نبھاتا رہا۔ اس سارے کچن کا خرچ وزیراعظم اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے ادا کرتے تھے اور اس ضمن میں سرکاری خزانے سے ایک پیسہ وصول نہیں کرتے تھے۔

ان کے سیکرٹری الطاف گوہر نے ایک بار جب ان کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرائی تو وہ ہنس کر بولے۔ ’’بالشک روٹی پانی کھلانے پلانے سے رزق کم نہیں ہوتا، بڑھتا ہے۔ میری جاگیریں جتنا اناج پیدا کرتی ہیں وہ میں کہاں لے جاؤں گا۔ اچھاہے کچھ حصہ آپ لوگوں کے کام بھی آجائے۔‘‘ ان کے دور اقتدار میں ہونے والی نوے فیصد تقریبات کے اخراجات بھی انہوں نے خود ہی برداشت کیے جبکہ مہینے میں ایک یا دو بار سارے سٹاف کی دعوت کرنا بھی ان کی زندگی کا معمول تھا۔ جس میں وہ پرتکلف کھانے کے دوران سب کو خوب لطیفے سناتے، ان کے زیادہ تر لطیفے جاگیردار طبقے کی حماقتوں اور سیاستدانوں کی بے وقوفیوں کے گرد گھومتے تھے۔ اس کے علاوہ ان کا ایک عجیب شوق تھا۔ وہ نئے شادی شدہ جوڑوں کو کھانے کی دعوت دیتے تھے چنانچہ سرکاری حلقوں میں جتنی شادیاں ان کے دور میں ہوئیں وہ شاید ہی کسی دوسرے عہد میں ہوئی ہوں۔
اس مضمون کا محرک بہت دلچسپ تھا، 1996ء میں اخبارات میں ایک چھوٹی سی خبر شائع ہوئی اس خبر میں انکشاف ہوا۔ ’’وزیراعظم نے وزیراعظم ہاؤس کا چیف شیف معطل کر دیا۔‘‘ تفصیلات میں لکھا تھا۔ ’’وزیراعظم نے اپنے لیے سویٹ ڈش تیار کرائی،

یہ ڈش جب وزیراعظم تک پہنچی تو انہیں ایمرجنسی میں ایک میٹنگ میں جانا پڑ گیا، انہوں نے جاتے جاتے سویٹ ڈش فریج میں رکھوا دی۔ رات گئے وزیراعظم واپس آئیں تو انہوں نے سویٹ ڈش لانے کا حکم دیا، وزیراعظم ہاؤس کا عملہ کچن میں پہنچا تو یہ دیکھ کر پریشان ہو گیا، وزیراعظم کی سویٹ ڈش فریج سے چوری ہو چکی ہے۔ اس ’’چوری‘‘ کی اطلاع جب وزیراعظم تک پہنچی تو انہوں نے چیف شیف کو معطل کر دیا۔ یہ خبر بہت دلچسپ تھی، میں نے جونہی یہ خبر پڑھی، میں نے سوچا پاکستان کے سابق اور موجودہ حکمرانوں کے دستر خوان ایک دلچسپ موضوع ہے اگر اس پر تحقیق کی جائے اور اس تحقیق کی بنیاد پر ایک طویل فیچر لکھا جائے تو قارئین اس میں دلچسپی لیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…