جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان اور انڈیا کی سرحد پر فلڈ لائٹسں ،بھارتی وزارت داخلہ کی پھرتیاں ، تصویرکن ممالک کی سرحدکی دکھادی ،بھارت دنیابھرمیں رسواہوگیا

datetime 15  جون‬‮  2017 |

نئی دہلی (آئی این پی ) بھارتی وزارت داخلہ نے سپین مراکش سرحدی تصویر کو انڈیا کی سرحد دکھا دیا،سوشل میڈیا پر بھارتی وزارت داخلہ کا مذاق اڑیا جارہا ہے اور دلچسپ تبصرے کیے گئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت کی وزارت داخلہ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں یہ تصویر استعمال کی ہے جس کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کی سرحد پر فلڈ لائٹسں لگائی گئی ہیں۔تاہم ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ یہ

تصویر اصل میں 2006 میں سپین کے فوٹوگرافر ژاویئر مویانو نے کھینچی تھی۔ویب سائٹ کے مطابق وزارت داخلہ نے اس غلطی کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔شیکھر گپتا نے ٹویٹ کیا کہ اولٹ نیوز کی جانب سے عمدہ طریقے سے حقائق کو چیک کیا۔ کیوں بی ایس ایف کو تصویر کے لیے کہا جائے جب انٹرنیٹ سے تصویر چوری کی جا سکتی ہے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو ماضی میں بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب اس نے غلط یا فوٹو شاپ ہوئی تصاویر سرکاری پریس ریلیزوں اور رپورٹس میں استعمال کیں۔انڈیا کی سرکاری پریس انفارمیشن بیورو نے 2015 میں ایک ٹویٹ میں فوٹو شاپ کی گئی تصویر چھاپی جس میں نریندر مودی چنئی میں آنے والے سیلاب کا سروے کر رہے تھے۔وزارت داخلہ کی غلطی سپین مراکش کی سرحد کو پاکستان انڈیا کی سرحد کے طور پر دکھا دی۔این ڈی ٹی وی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ سیکریٹری داخلہ راجیو مہریشی نے حکام سے وضاحت طلب کی ہے۔ اگر یہ وزارت کی غلطی ہے تو ہم معافی مانگیں گے۔بے سروپا! کیا مودی حکومت میں سب کچھ نقلی ہے؟ وزارت داخلہ کی رپورٹ میں سپین مراکش سرحد کو انڈیا کی سرحد پر لائٹنگ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔واضح رہے کہ انڈیا نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ سرحد پر سمگلنگ اور مبینہ دراندازی روکنے کے لیے فلڈ لائٹس نصب کی ہیں۔

وزارت کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ سرحد پر 647 کلومیٹر کے علاقے پر فلڈ لائٹس لگائی گئی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ غلط تصویر سالانہ رپورٹ میں کیسے چھپ گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…