جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پاناما کیس ،قصائی کی دکان،جے آئی ٹی نے شکا یات اور الزمات کے انبارلگا دیئے ،حیرت انگیزانکشافات، ایف بی آر اور انٹیلی جنس بیورو کا معنی خیز ردعمل

datetime 13  جون‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی)پاناما کیس کی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شکا یات اور الزامات کے انبارلگا تے ہوئے کہاہے کہ اداروں سے خفیہ خط و کتابت جان بوجھ کر میڈیا کو دی جاتی ہے جس کا مقصد تحقیقاتی عمل کو متنازعہ بنانا ہے ۔ نجی ٹی وی کے مطابق جے آئی ٹی نے مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے کام میں رکاوٹیں ڈالنے سے متعلق شکایات پر مبنی درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروائی تھی۔

درخواست میں وزارت قانون وانصاف انٹیلی جنس بیورو، سیکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان، قومی احتساب بیورو، ایف بی آر پر سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی درخواست کے مطابق جے آئی ٹی نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن سے چوہدری شوگر مل اور شریف فیملی کے خلاف ہونے والی تمام انکوائریوں کا ریکارڈ طلب کیا۔ اس کے جواب میں ایس ای سی پی نے اپنے خط میں بتایا کہ شریف فیملی کے خلاف کبھی کوئی انکوائری نہیں کی گئی۔درخواست میں کہا گیا کہ چیئرمین ایس ای سی پی کے حکم پر چودھری شوگر مل کی تحقیقات کا ریکارڈ تبدیل کیا گیا اور اس کیلئے ایس ای سی پی کے ای ڈی علی عظیم نے چودھری شوگرمل کی تحقیقات کو گزشتہ تاریخوں سے تبدیل کروایا جبکہ علی عظیم کو ہی چیرمین ایس ای سی پی نے جے آئی ٹی کیلئے نامزد کیا تھا۔ جے آئی ٹی کا کہنا ہے چیرمین ایس ای سی پی کی جانب سے علی عظیم کو جے آئی ٹی میں شامل کرنے کا مقصد تحقیقات کو سبوتاژکرنا تھا۔جے آئی ٹی کی درخواست میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی کے رکن بلال رسول اور ان کے اہل خانہ کے فیس بک اکاؤنٹس آئی بی کی مدد سے ہیک کر لئے گئے اور 24 مئی کو آئی بی کے اہلکار بلال رسول کے گھر کے قریب چکر لگاتے نظرآئے اورانہوں نے بلال رسول کے ملازم کو دھمکایا۔درخواست میں نیب کے رویے کی شکایت

کرتے ہوئے کہا گیا کہ 2004 میں ضم ہونے پر نیب نے جے آئی ٹی ممبر عرفان نعیم منگی کو25اپریل کو شوکاز نوٹس کیا جبکہ نیب نے عرفان منگی سے 15 روز میں جواب طلب کر رکھا ہے، نیب کا نعیم منگی کو نوٹس توجہ ہٹانے کے لئے ہے۔جے آئی ٹی نے ایف بی آر سے شریف فیملی کا1985 سے ریکارڈ طلب کیا تو ایف بی آر نے صرف 5 سال کا ریکارڈ ہی دینے کا کہا ٗ جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ وزارت قانون و انصاف نے بیرون ملک تحقیقات کے لئے لکھے گئے خط میں 5 دن تاخیر کی جبکہ جے آئی ٹی نے گواہوں کے بیانات تبدیل کروانے کی بھی سپریم کورٹ سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ گواہوں کو فریقین کی جانب سے بیانات سکھائے جا رہے ہیں، طارق شفیع کو اتفاق گروپ کے چیف ایگزیکٹونے پیشی سے پہلے وزیراعظم ہاؤس جانے کی ہدایت کی اورانہیں وزیر اعظم ہاؤس کی ہدایات کے مطابق بیان دینے کا کہا گیا۔

جے آئی ٹی نے کہا کہ ہماری اداروں سے خفیہ خط و کتابت میڈیا کو جان بوجھ کرجاری کی جاتی ہے جس کا مقصد تحقیقاتی عمل کو متنازعہ بنانا ہے۔ جے آئی ٹی کا کہنا ہے وزیراعظم کو طلبی کا نوٹس خفیہ تھا جس کی وزیر اطلاعات نے میڈیا میں تصدیق کی یوں اطلاعات کو عام کرنا گواہان کی سیکورٹی خدشات کو بڑھاتا ہے جبکہ ایک ممبر اسمبلی نے جے آئی ٹی کو قصائی کی دکان کہا۔دریں اثناء فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کہاہے کہ جے آئی ٹی کوتمام ریکارڈ بروقت مہیا کیا گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق ایف بی آرکے ذرائع نے بتایا کہ کچھ ریکارڈ فراہم کرنے میں ایک دن کی تاخیر ہوئی ٗیہ ریکارڈ لاہور سے منگوایا جانا تھا۔ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ الزامات پر تفصیلی جواب ایک دو روز میں عدالت میں جمع کرایا جائے گا۔

ذرائع ایف بی آرکا کہنا ہے کہ قانون کے تحت ایف بی آر صرف 5 سال کا ریکارڈ رکھنے کا پابند ہے ۔دریں اثناء انٹیلی جنس بیورو نے جے آئی ٹی کے الزامات پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ آئی بی ایک پیشہ وارانہ ادارہ ہے اس کا جے آئی ٹی اور اس کے امور سے کوئی تعلق نہیں ۔ نجی ٹی وی کے مطابق ترجمان انٹیلی جنس بیورو نے سپریم کورٹ کی طرف سے قائم جے آئی ٹی کی جانب سے عائد الزامات کے جواب میں کہا کہ جے آئی ٹی ٗ اسکے امور سے آئی بی کا تعلق نہیں۔ترجمان انٹیلی جنس بیورو کا کہنا ہے کہ آئی بی ایک پیشہ ورانہ ادارہ ہے آئی بی سیاسی امور میں مداخلت نہیں کر رہی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…