بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

وزیر اعظم کی جے آئی ٹی میں پیشی کے موقع پر کارکنوں کو لیجانے یا پہنچنے کی باضابطہ کوئی ہدایات نہیں دی گئیں‘ رانا ثنا اللہ

datetime 13  جون‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی) صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کی جے آئی ٹی میں پیشی کے موقع پر لیگی کارکنوں کو لیجانے یا وہاں پہنچنے کی باضابطہ کوئی ہدایات نہیں دی گئیں، نواز شریف کے جے آئی ٹی میں پیش ہونے سے ان کی عظمت ،وقار اور عزت میں اضافہ ہوگا اور جے آئی ٹی کا جیسا مرضی رویہ ہو وہ اس میں قطعاً کمی کا باعث نہیں بن سکتا ،ڈاکٹر طاہر القادری ہر سال پاکستان واپس آتے ہیں

اور تحریک کا اشارہ دیتے ہیں لیکن رمضان المبارک کے آخری عشرے میں نظر و نیاز اکٹھی کر کے واپس چلے جاتے ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ کچھ معاملات کے باعث جے آئی ٹی پہلے ہی متنازعہ تھی اور اگر واقعی یہ الزام لگایا ہے کہ ادارے تعاون نہیں کر رہے اور ریکارڈمیں ردو بدل کیا جارہا ہے تو جے آئی ٹی نے خو دکو متنازعہ بنانے کی آخری حد بھی عبور کر لی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سوالات میں سے سات کا تعلق اس کاروبار سے متعلق ہے جو میاں محمد شریف مرحوم نے آج سے چالیس،پچاس سال پہلے دبئی میں شروع کیا تھا باقی حسین نواز کے جدہ اور حسن نواز کے برطانیہ میں کاروبار سے متعلقہ ہیں ۔ یہ ریکارڈ کس ادارے کے پاس ہے اور کس نے بیرون ممالک جا کر اس ریکارڈ میں ردو بدل کیا ہے ؟۔ جے آئی ٹی کی طرف سے پاکستان کے اداروں سے متعلق اس طرح کا بیان انتہائی افسوسناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ جس طرح جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کے سامنے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے ، سوالات بھیجنے یا دو ممبران کو وہاں بھجوانے کے آپشنز رکھے اسی طرح اس ملک کے تیسری مرتبہ منتخب وزیر اعظم جو قوم کا فخر ہیں جنہوں نے اس ملک کو ایٹمی قوت بنایا ان کے سامنے بھی اسی طرح کے آپشنز رکھے جانے چاہیے تھے۔ وزیر اعظم نواز شریف کے جے آئی ٹی میں پیش ہونے سے ان کی عظمت ، وقار اور عظمت میں اضافہ ہوگا

اور جے آئی ٹی کا رویہ جیسا مرضی ہو گیا نواز شریف کا پوری قوم کے نام پیغام ہے کہ آئین و قانون کی نظر میں سب برابر ہیں ۔ انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کی پیشی کے موقع پر کارکنوں کو جمع ہونے کی ہدایت دئیے جانے کے حوالے سے عمران خان کے بیان پرکہا کہ جس طرح حسین نواز اور حسن نواز کی آمد کے موقع پر کارکن بغیر پارٹی ہدایات کے وہاں پہنچ جاتے تھے یقیناًاس روز بھی آئیں گے لیکن پارٹی کی طرف سے کارکنوں کے لئے باضابطہ طو ر پر اس طرح کی کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئیں۔ انہوں نے ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان آمد کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ ہر سال پاکستان آتے ہیں او ر تحریک چلانے کا اشارہ دیتے ہیں لیکن نظر نیاز اکٹھے آخری عشرے میں واپس چلے جاتے ہیں، وہ اس مرتبہ بھی آئیں ہیں انہیں کافی چندہ اکٹھا ہو جائے گا اور ہم بھی اس میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…