جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

آج کے بعد اس معروف تنظیم کو ہرگز اپنی زکوٰۃ اور فطرانے نہ دیں ۔۔پاکستانیوں کیلئے اہم خبر

datetime 12  جون‬‮  2017 |

مظفرآباد ( این این آئی)آزادکشمیر سمیت دارلحکومت مظفرآباد میں محکمہ تعلیم کے نام پر کروڑوں روپے ہڑپ کرنے والی جمال فائونڈیشن نے ایک بار پھرزکوٰۃ ، فطرانے اور بیرون ِ ملک امداد لینے کیلئے مہم شروع کردی ! ٗ مظفرآباد سمیت دیگر شہروں میں بڑے بڑے بینرز جبکہ تحقیقات پر جمال فائونڈیشن کی کوئی کارگردگی یا کارنامے منظر ِ عام پر برائے نام ! چند سکولوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرکے ڈونروں کو بے وقوف بنایا جارہا ہے دیگر ادارے تحقیقات کریں ۔تفصیلات کے مطابق آزادکشمیر میں این جی اوز کی بڑھتی ہوئی تعداد تشویشناک ہے وہاں مستحق افراد کے حقوق کو پامال کیا جارہا ہے دوسری جانب جمال فائونڈیشن جِس نے گزشتہ دنوں آزادکشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد کے ایک مقامی ہوٹل میں تقریب رکھ کر کروڑوں روپے کی امداد حاصل کرلی جبکہ اِس کا حساب صرف پروفارمے تک محدود ہوکر رہ گئے مگر یہ رقم کِن خیراتی اداروں کو دی گئی ہے اِس کے حساب کے لئے بھی فرضی خانہ پوری کی گئی ہے جبکہ آزادکشمیر بھر سمیت دارلحکومت مظفرآباد میں تمام این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ کرکے نئے سرے سے شروع کرنے کا پلان تیار کیا گیا تھا جِس میں این جی اوز کا سربراہ اور اُسکی باڈی کے تمام افراد کے پاس اُن کے متعلقہ تھانے کا کریکٹر سرٹیفکیٹ موجود ہونے کے علاوہ تعلیمی سرٹیفکیٹ کا بھی ہونا ضروری پایا گیا ہے جبکہ این جی اوز کے کسی ممبر یا سربراہ کا سرکاری ادارے سے تعلق نہ ہونے کی شرط بھی قائم ہے اُس کے باوجود جمال فائونڈیشن میں آزادکشمیر بھر سمیت مظفرآباد میں مختلف مقامات پر زکوٰۃ اور فطرانہ لینے کیلئے پوسٹر چسپاں رکھے ہیں جو کہ دفعہ 144کے ذمے میں آتا ہے اور نیشنل ایکشن پلان کے رولز کے مطابق کوئی تنظیم یا این جی او چندہ اکٹھا نہیں کرسکتی مگر اُس کے باوجود جمال فائونڈیشن پوسٹر لگا کر امداد لینے کی پالیسی پر گامز ن ہے قانون نافذ کرنیو الے ادارے سمیت دیگر ادارے ایسی این جی اوز پر فوری طور پر پابندی عائد کریں جِن کی کاگردگی دفاتروں میں موجود پروفارم کے ذریعے دیکھا کر اُلو بنایا جاتا ہے ، پابندی لگائی جائے جبکہ تعلیم اور بیرون ِ ملک سے آنے والے اِمداد کی تحقیقا ت کی جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…