اتوار‬‮ ، 22 مارچ‬‮ 2026 

دہشت گردوں سے روابط کے الزام پرترک صدر کادوٹوک جواب،قطر میں موجود امریکی فوجی اڈے کے بارے میں ایسا اعلان کردیا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا

datetime 10  جون‬‮  2017 |

استنبول (آئی این پی)ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کو ختم کرنے کا راستہ اختلاف نہیں بلکہ اتفاق سے گزرتا ہے، ہم قطر سے ہر طرح کا تعاون جاری رکھیں گے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ِ ترک صدر نے اپنی سیاسی جماعت آق پارٹی کے استنبول ضلعی مرکزی دفتر میں منعقدہ ایک افطار پروگرام سے خطاب میں قطر کا ذکر کرتے ہوئے اسلام جغرافیہ میں رونما ہونے والے واقعات پر توجہ مبذول کرائی۔

مسلمانوں کے بیچ لڑائی جھگڑوں اور فسادات سے تنگ آنے کا کہنے والے اردگان نے بتایا کہ شام، عراق، یمن، افغانستان، میانمار اور اب قطر میں پیش آنے والے واقعات کسی کے لیے بھی سو د مند ثابت نہیں ہوں گے، ان تمام مسائل کا جلد از جلد حل تلاش کیا جانا چاہیے۔قطر کے بارے میں روزانہ ایک نئی خبر پھیلنے پر زور دینے والے صدر نے کہا کہیہ لوگ قطر میں مختلف فلاحی خدمات کے لیے قائم کردہ ایک انجمن کو دہشت گرد قرار دے دہے ہیں، یہ ایک ناقابل قبول فعل ہے، میں اس انجمن کی سرگرمیوں سے آگاہ ہوں ، قطر کے دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے کا آج تک میں نے کبھی بھی مشاہدہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دو ہفتوں تک قطر کے ساتھ اچھے تعلقات پائے جانے والے خلیجی ممالک کی جانب سے دوست اور برادر ملک کی نظر سے دیکھے جانے والے قطر کو ایک دہشت گرد ملک قرار دینا ایک ذی فہم بات نہیں ہے، ہم قطری بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، ہم پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ہم انہیں حق کی راہ میں پورا کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔ بطور ترکی، ہم نے خطے میں ہمیشہ سے ہی استحکام، سلامتی، امن و آشتی کی حمایت کی ہے۔ ہم بلا کسی تفریق کے ہمارے بھائیوں کے درمیان تنازعات کو دور کرنے ، ان کو مشترکہ مفاد کے پلیٹ فارمز میں یکجا کرنے کے زیر مقصد وسیع پیمانے کی سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔

انشااللہ قلیل مدت میں ہماری یہ کوششیں رنگ لائیں گی۔ سب سے زیادہ ہمیں متاثر کرنے والے اور مسلمانوں کے وقار کو ٹھیس پہنچانے والی دہشت گرد تنظیموں کا قلع قمع کیے جانے کا راستہ اختلاف نہیں بلکہ اتفاق سے گزرتا ہے۔امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے کل شام اعلانات پر بھی اپنا جائزہ پیش کرتے ہوئے صدرِ ترکی نے کہا کہ ٹیلرسن کے قطر پر عائد کردہ پابندیوں میں تحفیف لانے کے حوالے سے اعلانات اہم ہیں۔

انہوں نے اس ملک پر عائد تمام تر پابندیوں کو ہٹائے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے خلیجی ملکوں میں سے سب سے بڑے اور طاقتور ملک سعودی عرب پر اس حوالے سے بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ایردوان نے آخر میں یہ سوال بھی کیا کہ اے خلیجی بھائیو امریکہ کا قطر میں فوجی اڈہ آیا کہ کیوں آپ کو بے چین نہیں کرتا؟ وہاں پر دیگر ملکوں کے فوجی اڈے بھی موجود ہیں یہ بھی آپ کے لیے کیونکر تشویش ناک نہیں ہیں؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…