پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

یہ شخص شعراء کو نہیں گداگروں کو دیتا ہے!

datetime 8  جون‬‮  2017 |

علامہ ابن جوزیؒ نے لکھا ہے کہ شعراء اور خطباء کی بارگاۂ خلافت میں یہ کسمپرسی اور خستہ حالی دیکھ کر ایک روز اس وقت کے مشہور شاعر جریر نے ایک ممتاز فقیہ کی وساطت سے سیدنا عمر بن عبدالعزیزؒ کو یہ اشعار لکھ کر بھیجے۔ ’’اے وہ قاری جس کے عمامہ کا شملہ لٹک رہا ہے۔۔ اب یہ تیرا زمانہ ہے، میرا زمانہ تو گزر گیا‘‘۔

’’میرا یہ پیغام ہمارے خلیفہ کو پہنچا دے اگر تیری اس سے ملاقات ہو کہ میں دروازہ پر بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہوں‘‘۔ عون بن محمد نے سیدنا عمر بن عبدالعزیزؒ سے مل کر کہا کہ جریر سے میری عزت و آبرو بچائیے۔ آپ نے جریر کو بارگاہ خلافت میں اذن باریابی دیا۔ اس نے ایک قصیدہ پڑھا۔ جس میں اہل مدینہ کے مصائب و آلام اور مشکلات کا ذکر تھا۔ سیدنا عمر ثانیؒ نے ان کے لیے غلہ اور نقد روپیہ بھیجا اور جریر سے پوچھا: تم کس جماعت کے ہو، مہاجرین سے یا انصار سے یا ان کے اعزاز و اقرباء سے یا مجاہدین سے؟ اس نے کہا: میں ان میں سے کسی سے نہیں ہوں۔ فرمایا، پھر مسلمانوں کے مال میں سے تمہارا کیا حق ہے؟ اس نے کہا ’’اگر آپ میرے حق کو نہ روکیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں میرا حق مقرر فرمایا ہے۔ میں ’’ابن سبیل‘‘ مسافر ہوں۔ دور دراز سے سفر کرکے آپ کے دروازے پر آ کر ٹھہرا ہوں۔ آپ نے فرمایا: اچھا اب جبکہ تم میرے پاس آ ہی گئے ہو۔ تو میں اپنے ذاتی خرچے سے تمہیں بیس درہم دیتا ہوں یہ لے لو۔ اس حقیر رقم پر تم خواہ میری تعریف کرو یا مذمت۔ میری مدح کرو یا ہجو۔ جریر نے اس حقیر رقم کو بھی غنیمت سمجھ کر لے لیا اور باہر آگیا۔ دوسرے شعراء نے جو اس کو بارگاہ خلافت سے باہر نکلتے دیکھا۔ تو دوڑ کر پوچھا ’’کہو ابو حزرہ! کیسا معاملہ رہا؟‘‘ جریر نے جواب دیا ’’اپنا راستہ ناپو، یہ شخص شعراء کو نہیں بلکہ گداگروں کو دیتا ہے۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…