پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

بیٹے کا والد کو آخرت یاد دلانا

datetime 8  جون‬‮  2017 |

ایک روز حضرت عمرؒ کے صاحبزادے عبدالملکؒ اپنے والد کے پاس آئے۔ دیکھا کہ حضرت عمرؒ اپنے چچا زاد بھائی مسلمہ کے ساتھ باتیں کر رہے ہیں۔ آپ نے اپنے والد کو تنہائی میں بلایا تاکہ کچھ کہا جا سکے۔ حضرت عمرؒ نے پوچھا کیا کوئی راز کی بات ہے جو تم نے مجھے تنہائی میں بلایا۔ عبدالملک نے کہا ’’ہاں‘‘، مسلمہ کھڑے ہو گئے اور آپ اپنے والد کے ساتھ تنہائی میں بیٹھ گئے اور کہا

’’امیرالمومنین! کل قیامت کے روز آپ اپنے رب کو کیا جواب دیں گے جب وہ آپ سے پوچھے گا: عمر! تو نے بدعت دیکھی تھی لیکن اسے مٹانے کی کوشش نہیں کی تھی یا تو نے مردہ سنت (ترک کی ہوئی سنت) کو زندہ کرنے کی کوئی جدوجہد نہ کی تھی؟‘‘ حضرت عمرؒ نے فرمایا: ’’جانِ پدر! کیا اس نصیحت پر تم کو کسی شے نے آمادہ کیا ہے یا تم یہ بات اپنے دل سے کہہ رہے ہو‘‘؟ عبدالملکؒ نے کہا: ’’نہیں نہیں بخدا! یہ بات میں اپنے دل سے کہہ رہا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ آپ سے روز قیامت اس کے بارے میں پوچھا جائے گا، لیکن آپ کے پاس اس کا کیا جواب ہے؟ سیدنا عمرؒ نے فرمایا: ’’لختِ جگر! اللہ تعالیٰ تمہیں بہترین جزائے خیر عطا فرمائے اور تم پر اپنی رحمتیں نچھاور کرے۔ تم نیکی اور صلاح کے لیے میرے بہترین معاون ثابت ہو گے۔ بیٹا! یاد رکھو، تمہاری قوم نے خلافت میں بے شمار گانٹھیں لگا دی ہیں اور بڑی مشکلات پیدا کر دی ہیں اور ظلم کی بنیادیں مضبوط اور مستحکم بنا دی ہیں اور جب میں ان کے مغصوبہ اموال اور جبراً قبضہ کی ہوئی جائیدادوں کی واپسی کے بارے میں جھگڑتا ہوں تو مجھے ایسی پھوٹ اور تفرقہ پڑ جانے کا خدشہ لگا رہتا ہے جس سے خون خرابہ کی نوبت آ جائے، بخدا! میرے نزدیک دنیا کا فنا ہو جانا آسان ہے لیکن میں یہ نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے کسی کا ایک قطرہ خون بھی نکلے‘‘۔   کیا تو اس پر راضی نہیں کہ کبھی تیرے باپ کو وہ مبارک دن دیکھنا نصیب ہو گا جس روز وہ بدعت کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکے گا اور تمام دنیا کو سنت کے انوار سے جگمگا دے گا یہاں تک کہ حق تعالیٰ شانہ فیصلہ فرمائیں اور اللہ تعالیٰ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…