پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

مرض نفس

datetime 7  جون‬‮  2017 |

حضرت جنید بغدادی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں تہجد کیلئے اٹھا‘ جب نماز پڑھنے کا ارادہ کیا تو مجھ پر ناقابل بیان اضطراب طاری ہو گیا‘ بجائے تہجد پڑھنے کے میں ذکر الٰہی میں مشغول ہو گیا تو تب بھی طبیعت میں بے قراری محسوس کرتا رہا- آخر کار میں ادھر ادھر ٹہلنے لگا مگر بے قراری کی کیفیت ختم نہ ہوئی‘ پھر میں جا کر بستر پر لیٹ گیا لیکن کیفیت جوں کی توں رہی‘ پتا نہیں چل رہا تھا کہ اس بے چینی کا سبب کیا ہے؟

آخر میں جوتے پہن کر باہر نکل آیا اور کھلی فضا میں ٹہلنے لگا‘ گھر سے کچھ ہی دور گیا تھا کہ میں نے دیکھا کہ ایک شخص چوغے میں ملبوس اپنے اوپر چادر اوڑھے لیٹا ہوا ہے‘ میں دیکھ کر حیران ہوا کہ یہ کون شخص ہے کہ جو پچھلے پہر یہاں لیٹا ہوا ہے‘ فرماتے ہیں کہ میں جب اس کے قریب پہنچا تواس نے مجھ سے مخاطب ہو کرکہا ‘ آ گئے ہو ابو القاسم ! تم نے آتے آتے بہت دیر کر دی ‘ حضرت جنید فرماتے ہیں اس آدمی کی بات سن کر مجھ پر ایک عجیب سا رعب طاری ہو گیا‘ پر میں نے پوچھا کہ میں نے آپ کے پاس آنے کا کوئی وعدہ تو نہیں کیا تھا کہ جس کی پابندی مجھ پر فرض ہوتی‘مذکورہ شخص نے حضرت جنید سے کہا ‘ اے ابو القاسم ! آپ سچ کہتے ہیں مگر میں نے خداوند ذوالجلال کو جو دلوں کو حرکت دیتا ہے اورمقلب القلوب ہے یہ کہا تھا کہ آپ کے دل کو حرکت دے اور میری جانب بھیج دے‘ حضرت جنید نے کہا ‘ بے شک اللہ تعالی نے میرے دل کو آپ کی طرف مائل کر دیا ہے اور میں آ بھی گیا ہوں‘ اب آپ مجھے بتائیں کہ آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں ؟ وہ شخص بولا ‘ اے ابو القاسم! میں ایک سوال کا جواب آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں‘ اس سوال نے کئی دنوں سے مجھے پریشان کر رکھا ہے‘ حضرت جنید نے پوچھا آپ بتائیے‘ سوال کیا ہے؟ اس نے کہا سوال یہ ہے کہ مرض نفس کب نفس کی دوا بن جاتا ہے‘ حضرت جنید نے جواب دیا‘

جب انسان اپنی خواہشات کی مخالفت کرتا ہے تو اس حالت میں مرض نفس اس کے نفس کا علاج بن جاتا ہے‘ حضرت جنید کا یہ جواب سن کر وہ شخص اپنے دل کو مخاطب کر کے کہنے لگا‘ میں نے تجھے سات مرتبہ یہی جواب دیا تھا مگر تونے میری بات نہیں مانی اور یہی کہتا رہا کہ جب تک جنید کی زبانی نہیں سنوں گا اس وقت تک نہیں مانوں گا ‘ اب تو تونے سن لیا کہ جنید کیا کہتے ہیں ؟ یہ کہہ کر وہ شخص تیز رفتاری کے ساتھ چلا گیا‘ آپ کھڑے سوچتے ہی رہے کہ وہ شخص کون تھا اور کہاں سے آیا تھا- حضرت جنید فرماتے ہیں کہ اس سے پہلے میں اسے نہیں جانتاتھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…