اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

صرف 4 سیکنڈ کا توقف آ سانیاں پیدا کردے

datetime 26  مارچ‬‮  2015 |

برمنگھم (نیوز ڈیسک)غیر یقینی صورت حالات یا جلد بازی کے دوران فیصلہ سازی ایک مشکل عمل بن جاتا ہے اور اکثر ہم دباﺅکے تحت غلط فیصلہ کر بیٹھتے ہیں۔ پریشانی یا دباﺅ کی صورت میں دماغ کا صحیح فیصلے میں غلطی کرنا ایک قدرتی عمل ہے لیکن مصنف پیٹر بریگمین اپنی نئی کتاب ”4 سیکنڈز “ میں صحیح اور بہترین فیصلہ کرنے کا نہایت آسان نسخہ بتاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ کی کسی سے تکرار ہوجائے یا آپ کسی بحث میں مصروف ہوں اور آپ کو محسوس ہو کہ صورتحال آپ کے کنٹرول سے نکلتی جارہی ہے تو آپ کو معاملات دوبارہ اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے محض چار سیکنڈ کے وقفے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ چار سیکنڈ کا توقف کریں اور لمبی سانس لیں تو اس دوران آپ کے دماغ کو قدرتی طور پر اتنا وقت، آرام اور آکسیجن مل جاتی ہے کہ آپ صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں۔اسی طرح اگرآپ ذہنی دباﺅ محسوس کررہے ہیں اور کسی ملاقات یا انٹرویو سے پہلے گھبراہٹ کا شکار ہیں اور آپ کی پریشانی میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے تو صرف4 سیکنڈ کے لیے تمام سوچوں کو ذہن سے نکال کر لمبی سانس لیں، نہ صرف آپ کا ذہن پرسکون ہوجائے گا بلکہ آپ آنے والے چیلنج کا بھی بہتر طور پر مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوجائیں گے۔اگر آپ کسی اہم گفتگو یا تقریر میں مصروف ہیں اور گھبراہٹ اور بے یقینی کا شکار ہورہے ہیں تو اس صورت میں بھی چار سیکنڈ کی مکمل خاموشی آپ کے حواس کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…