حضرت نافع رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مدینے کے ایک کنارے میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی زمین تھی وہاں ایک مسجد میں نماز کھڑی ہونے لگی۔ مسجد کے امام ایک غلام تھے۔ حضرت ابن عمرؓ نماز میں شریک ہونے کے لئے اس مسجد میں داخل ہوئے تو اس غلام نے ان سے کہا کہ آپ آگے تشریف لے چلیں اور نماز پڑھائیں۔
حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا تم اس مسجد میں نماز پڑھانے کے لئے زیادہ حقدار ہو چنانچہ اس غلام نے نماز پڑھائی۔ حضرت طاؤس رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی طرح نماز میں قبلہ رخ رہنے میں بہت زیادہ اہتمام کرتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا وہ نماز میں اپنا چہرہ، ہاتھ اور پاؤں قبلہ رخ رکھنے کا سختی سے اہتمام کرتے تھے۔



















































