پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

چقندر کے بدلے انجیر

datetime 6  جون‬‮  2017 |

ملا نصر الدین کے گھر میں بیری کا ایک درخت تھا جس پر بڑے میٹھے بیر لگتے تھے، وہ انہیں دیکھ دیکھ کر بڑا خوش ہوتا اور بڑے فخر سے کہا کرتا کہ ساری دنیا میں اتنے بڑے اور میٹھے بیر کہیں نہیں ہوں گے۔ ایک روز اس نے اچھے اچھے بیر چھانٹ کر ایک تھالی میں سجائے، تھالی سر پر رکھی اور بادشاہ کے محل کی طرف چل دیا کہ جا کر اسے یہ تحفہ دے۔ راستے میں بیروں نے تھالی کے اوپر لڑھکنا اور ناچنا شروع کر دیا،

ملا کو بار بار تھالی کا توازن درست کرنا پڑتا تھا، مگر بیر تھے کہ نچلے نہ بیٹھتے تھے، کبھی ادھر کو لڑھکتے، کبھی ادھر کو، ملا بیروں کی شرارت سے تنگ آ گیا اور ایک جگہ رک کر کہنے لگا۔ کم بختو، اگر تم نے ناچنا اور لڑھکنا بند نہ کیا تو میں تم سب کو ہڑپ کر جاؤں گا۔ یہ کہہ کر اس نے ایک مرتبہ پھر ترتیب سے بیروں کو رکھا اور تھالی سر پر رکھ کر آگے چل پڑا، لیکن بیروں نے پھر تھرکنا شروع کردیا اب تو ملا کو بڑا طیش آیا، راستے ہی میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا اور کہنے لگا۔ اچھا کم بختو، تم یوں نہ مانو گے، لو، اب تماشا دیکھو،یہ کہہ کر اس نے ایک ایک کرکے بیروں کو کھانا شروع کر دیا، جب ایک بیر باقی رہ گیا تو ملا نے اس سے کہا، اگر تمہیں ایک موقع اور دیا جائے تو کیا خاموشی سے چلو گے۔ بے چارہ بیر اپنے ساتھیوں کا حشر دیکھ چکا تھا، اس لیے وہ چپ چاپ تھالی میں پڑا رہا اور ملا نصر الدین اسے لے کر بادشاہ کے دربار میں پہنچ گیا، اس روز بادشاہ سلامت کا موڈ بہت اچھا تھا، انہوں نے ملا نصر الدین کا تحفہ مزے لے لے کر کھایا اور خوب تعریف کی۔ پھر ملا نے بادشاہ کو دلچسپ لطیفے سنائے جنہیں سن کر اس کے پیٹ میں بل پڑ گئے، شام ہوئی تو ملا نے رخصت ہونے کی اجازت طلب کی، بادشاہ نے اس کی تھالی، ہیروں جواہرات سے بھریدی اور ملا ہنسی خوشی گھر آگیا۔ ایک ہفتے تک وہ بڑا خوش رہا، اس کے بعد پھر اسے ہیروں کا لالچ ہوا،

وہ سوچنے لگا کہ اس مرتبہ بادشاہ سلامت کے لیے کیا چیز لے جاؤں، یکایک اس کی نظر اپنے گھر میں لگے ہوئے سرخ سرخ چقندروں پر پڑی، ملا خوشی سے اچھل پڑا اور اس نے یہی تحفہ بادشاہ کے پاس لے جانے کا فیصلہ کرلیا، اس نے جلدی جلدی ڈھیر سارے چقندر توڑ کر اپنی تھالی میں سجائے، تھالی کو سر پر رکھا اور بادشاہ کے محل کی طرف چل پڑا۔ راستے میں اسے ایک دوست ملا جس کا نام حسن تھا، اس نے پوچھا،

ملا صاحب، اتنے شاندار چقندر تم کس کے لیے لے جا رہے ہو۔بادشاہ سلامت کو تحفے میں دینے کے لیے۔ تحفہ اور وہ بھی چقندروں کا، ملا جی، تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا، حسن نے کہا۔ کیوں، کیا ہوا، کیا چقندر بادشاہوں کو تحفے میں دیے جانے کے لائق نہیں، ملا نے پوچھا۔ یہ کہہ کر اس نے چقندروں کو غور سے دیکھا، اب اسے محسوس ہوا کہ واقعی چقندر اس قابل نہیں کہ بادشاہ کو تحفے میں دیے جا سکیں۔ اس نے حسن سے پوچھا،

بھائی تم ہی کچھ بتاؤ، میں ان کے بجائے اور کیا چیز لے جاؤں۔انجیر لے جاؤ، پکے ہوئے رس دار۔ ارے واہ، یہ تو تم نے خوب بتایا ملا نے کہا غضب خدا کا، مجھے پہلے کیوں خیال نہ آیا کہ بادشاہ کے پاس انجیر لے جانے چاہئیں۔ وہ الٹے پاؤں بازار کی جانب چلا اور ایک دکان دار سے چقندروں کے عوض پکے پکے رس دار انجیر لے لیے۔ اب سنو، اس روز بادشاہ سلامت کا مزاج بہت گرم تھا، درباری امیر اور وزیر سب سہمے ہوئے تھے،

ملا حسب معمول اچھلتا کودتا بادشاہ کے سامنے پہنچا اور تھالی اس کے آگے رکھ دی۔ کیا ہے اس میں، بادشاہ نے گرج کر پوچھا۔حضور، انجیر ہیں، آپ کے لیے لایا ہوں، ذرا چکھ کو تو دیکھیے۔ بادشاہ کے غصے کا پارہ اور گرم ہوگیا،اس نے کڑک کر سپاہیوں کو آواز دی اور انہیں حکم دیا کہ یہ سب انجیر ملا کے پھینک پھینک کر مارو اور خوب زور زور سے، ملا نے یہ حکم سنا تو سر پر پاؤں رکھ کر بھاگا،

لیکن سپاہیوں نے اسے پکڑ لیا اور انجیر مار مار کر اس کا منہ سجا دیا، جب انجیر ختم ہوگئے تو سپاہیوں نے اسے چھوڑ دیا اور وہ تیر کی طرح وہاں سے رفو چکر ہوگیا۔ راستے میں ملا کو حسن ملا۔ ملا فوراً اس کے گلے سے لپٹ گیا اور کہنے لگا، پیارے بھائی، اگر میں تمہاری نصیحت نہ مانتا تو میری ہڈی پسلی ایک ہوجاتی، خدا تمہیں جزائے خیر دے۔ حسن نے ملا کی یہ حالت دیکھی تو اسے سخت تعجب ہوا اور کہنے لگا آخر کچھ بتاؤ تو کیا واقعہ پیش آیا۔

ارے بھائی، بس بال بال بچ گیا، خدا تمہارا بھلا کرے، میں نے تمہاری نصیحت مان لی۔ کون سی نصیحت، حسن نے جھنجھلا کر پوچھا۔ ارے بھائی، وہی چقندروں کے بجائے انجیر لے جانے کی، اُف خدایا، اگر میں وہ بڑے بڑے لوہے جیسے سخت چقندر لے جاتا اور بادشاہ کے سپاہی وہ مجھ پر پھینکتے تو سچ مانو، میرا تو کچومر ہی نکل جاتا، خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میں نے تمہاری رائے پر عمل کیا۔۔۔۔۔ ورنہ چقندر۔۔۔۔۔۔ توبہ توبہ۔۔۔۔۔۔ پیارے بھائی، اللہ تمہیں اس کا اجر دے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…