ریشماں 10 سالہ بچی کو ساتھ لئے، پسینے سے شرابور اِدھر اُدھر دھکے کھا رہی تھی، پریشانی اس کے چہرے سے عیاں تھی، جس کھڑکی میں جاتی امید کی جوت جلا لیتی کہ شاید یہاں کوئی اللہ کا رحم دل بندہ بیٹھا ہو گا، وہ مایوس ہو جانے والوں میں سے نہیں تھی، مگر ہر دن اسے مایوسی کی طرف دھکیل رہا تھا، شوہر کو فوت ہوئے دو سال ہو چکے تھے، جمع پونچی تو شوہر کی بیماری پہ ہی خرچ ہو گئی تھی،
یہ دو سال کیسے گزرے تھے، یہ بات صرف وہ جانتی تھی یا اس کا خدا جانتا تھا، وہ دو سال اس امید میں گزرے کہ محکمے والے آج کل میں کاغذی کارروائی مکمل کرکے اس کے شوہر کے واجبات ادا کر دیں گے جو ریلوے میں ٹی ٹی تھا، مگر لگتا تھا اس کے شوہر کے ساتھ محکمہ بھی مر گیا تھا! کسی نے پلٹ کر خبر بھی نہ لی کہ مرنے والا ایک بیوہ اور دو بیٹیاں چھوڑ کر مرا تھا، وہ زندہ لاشیں کیا کھا رہی ہوں گی اور کہاں سے کھا رہی ہوں گی؟ ایک افسر نے تو انتہا کر دی جب اس نے اس کو یاد دلانے کی کوشش کی کہ کھانے پینے کے علاوہ بھی اس کی کچھ انسانی ضرورتیں ہوں گی، جن کے لئے انہوں نے اپنی خدمات پیش کر دیں، نیز دھمکی بھی دے دی کہ انکار مہنگا بھی پڑ سکتا ہے، وہ اس کے شوہر کے سر کوئی انکوائری ڈال کر واجبات ضبط بھی کروا سکتے ہیں! ریشماں کے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی، واجبات کیا ملنے تھے یہاں تو عصمت کے لالے پڑ گئے تھے وہ جیسے تیسے کرکے باہر نکلی اور رکشہ تلاش کرنے لگی کہ اتنی دیر میں یوسف خان نے اسے دیکھ لیا، یوسف خان ان کے محلے کا رکشہ ڈرائیور تھا، اس نے جھٹ سے رکشہ لا کر کھڑا کر دیا اور بولا بھابھی جلدی سے بیٹھ جائیں،آج تو گرمی نے بھی اخیر کر دی ہے، تھوڑی دیر کے بعد یوسف خان نے پوچھا بھابھی آپ ادھر کس کام سے آئی تھیں،کوئی چھوٹا موٹا کام ہو تو ہمیں بتا دیا کریں،
آپ اس گرمی میں بچوں کے ساتھ خوار مت ہوا کریں، ریشماں نے اسے واجبات کے لیے بھاگ دوڑ کی بات تو بتائی مگر اگلی بات گول کر گئی، یوسف خان اس کی بات سن کر تھوڑی دیر تو سوچتا رہا، اس کے رکشے میں اس کے سامنے اس کی دو بیٹیوں کی تصویر لگی تھی جس میں وہ اپنے گھر کے آنگن میں لگے گھنے توت کے نیچے ایک سائیکل پکڑے کھڑی تھیں، یہ وہ آخری تصویر تھی جو اس نے رخصت ہوتے وقت بنائی تھی،
پھر وہ ان بیٹیوں اور ان کی ماں کو دیکھ نہیں سکا تھا، اسے جب زلزلے کی اطلاع ملی تھی تو پاگلوں کی طرح شہر شہر گاڑیاں بدلتا ہوا اپنے شہر بالا کوٹ کی طرف بھاگا تھا مگر حتیٰ الامکان جلدی کے باوجود وہ تیسرے دن پہنچ پایا تھا، تب تک لوگ اس کی بیوی اور بچیوں کو ملبے سے نکال کر دفنا چکے تھے، وہ صرف ان کی مٹی کی ڈھیری ہی دیکھ پایا تھا، وہ ان کی قبر پر بھی چین سے نہیں بیٹھ پایا تھا،
ایک کی قبر پر بیٹھتا تو اسے لگتا دوسری ضد کر رہی ہے وہ ادھر جا کر بیٹھتا تو لگتا پہلی ناراض ھو گئی ہے، وہ اسی طرح کرتی تھیں، جب بھی وہ سوتا تو کافی دیر جھگڑا چلتا کہ وہ کس کی طرف منہ کرے گا، کبھی ایک کھینچ کر اس کا منہ اپنی طرف کر لیتی تو کبھی دوسری، آخر کار وہ سائیڈ پہ ہو کر دونوں کو ایک طرف سلا کر کروٹ کے بل لیٹ کر منہ ان دونوں کی طرف کرتا تو آگے کون لیٹے گی اور پیچھے کون ہو گی اس پہ جھگڑا ہو جاتا،
جس پر وہ انہیں دھمکی دیتا کہ وہ صبح چلا جائے گا، جس پر وہ ڈر کر چپ کر جاتیں، اب یہی فوٹو اس کا سہارا تھا۔ اس نے نظریں ٹکا کر فوٹو کی طرف دیکھا اور کہنے لگا! بہن جی یہ دفتر بھیڑیوں سے بھرے پڑے ہیں، آپ واجبات کو گولی ماریں، آپ کو اور بچیوں کو خرچہ بھی ملتا رہے گا اور بچیوں کی اسکول فیس بھی جمع کرا دیا کروں گا! بڑی بچی 13 سال کی تھی اور آٹھویں میں پڑھتی تھی، چھوٹی چھٹی کلاس میں تھی،
اگلے دن سے بچیاں بھی اسکول جانے لگ گئیں اور ریشماں کے گھر ہفتے کا راشن بھی پہنچ گیا، یوسف خان کو اپنی بچیاں مل گئی تھیں! وقت کا پہیہ تیزی سے گھومتا ہے، بڑی بچی نے بی اے بی ایڈ کر لیا تھا اور اب وہ ایک اسکول میں استانی لگ گئی تھی جبکہ چھوٹی بھی کالج جا پہنچی تھی! بڑی بچی کے اسکول میں ٹیچر لگ جانے سے یوسف خان کو تھوڑی راحت ملی تھی اب وہ چودہ پندرہ گھنٹے رکشہ چلانے کی بجائے دس گھنٹے کے لئے ہی رکشہ نکالا کرتا تھا!
یوسف خان پکا نمازی تھا، جس حال میں بھی ہو وہ نماز نہیں چھوڑا کرتا تھا، البتہ کپڑوں کے بارے میں وہ لاپرواہ سا تھا، محلے کے مولوی صاحب کو یوسف خان سے بے انتہا چِڑ تھی، وہ اسے دو تین دفعہ ڈانٹ چکے تھے کہ وہ مسجد کے آداب کے مطابق بن سنور کر نہیں آتا، ان کی ڈانٹ سن کر بھی یوسف پہ کوئی خاص اثر نہیں پڑا تھا، بلکہ ایک دن انہوں نے جمعے میں موضوع ہی یوسف خان کو بنا لیا کہ وہ کتنا ڈھیٹ انسان ہے اور اللہ کے رسول ﷺ کا حکم سن کر بھی ٹس سے مس نہیں ہو رہا اور گندے کپڑے پہن کر مسجد آ جاتا ھے،
جس سے دوسرے نمازیوں کو بھی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے وغیرہ وغیرہ، حالانکہ ایسا کوئی ریفرنڈم نہیں کرایا گیا تھا جس میں نمازیوں نے اپنی شکایات کو ریکارڈ کرایا ہو، مگر امام صاحب نمازیوں کو آن بورڈ لینا چاہتے تھے لہذا اپنے درد میں ان کو زبردستی شریک کر لیا تھا، اصل مسئلہ یہ تھا کہ یوسف اس مسجد میں نماز تو پڑھتا تھا مگر چندہ نہیں دیا کرتا تھا، جو کہ امام صاحب کی اصل شکایت تھی چندہ تو چندہ، اس کے پاس خود اپنے کھانے کے پیسے بھی بعض دفعہ نہیں بچتے تھے!
اس دن یوسف خان نے طے کر لیا کہ وہ اب مسجد بدل لے گا کیونکہ امام صاحب کی ہلہ شیری پر اب نمازی بھی اس سے مخاصمت کرنے لگ گئے تھے! ان نمازیوں میں خدا بخش ناریجو بھی شامل تھا، وہ یوسف خان کی شکل سے چڑتا تھا اور کوشش کرتا تھا کہ اس سے دور ہی رہے تا کہ ہاتھ نہ ملانا پڑ جائے! پھر ایک دن یوسف خان بارش میں بھیگ جانے کی وجہ سے نمونیے کا شکار ہو گیا، 48
گھنٹے میں اس کے بدن کے تمام اہم اعضاء نے یکے بعد دیگرے کام چھوڑ دیا اور وہ چند گھنٹے کومے میں رہنے کے بعد فوت ہو گیا مگر مرنے سے پہلے وہ رکشہ بیچ کر پیسے ریشماں کو دینے کی وصیت نہیں بھولا تھا، جس طرح اس کی زندگی غیر اہم تھی موت بھی غیر اہم ثابت ھوئی، محلے کی مسجد نے اس کی موت کا اعلان تک کرنا پسند نہ کیا، مولوی صاحب کو اس دن کوئی ضروری کام پڑ گیا اور وہ شہر روانہ ہو گئے،
جبکہ چند لوگوں نے یوسف خان کا جنازہ پڑھا کر اسے دفن کر دیا اور یوں اپنے تئیں زمین کا بوجھ کم کر دیا، ریشماں کو یوسف خان کے مرنے کی خبر اس وقت ملی جب اس کے دوستوں نے پیسے اور یوسف خان اور اس کی بچیوں کا فوٹو جو رکشے سے اتارا تھا وہ لا کر اسے دیے، ریشماں کے گھر قیامت آ گئی وہ اسی طرح بلک بلک کر روئی جس طرح سگے بھائی کے مرنے پہ کوئی روتا ہے، بچیاں بھی دھاڑیں مار مار کر ماموں کے لئے رو رہی تھیں جو ہمیشہ انہیں اپنے رکشے میں لے کر جاتا اور لے کر آتا تھا،
ان کی فیس دو دن ایڈوانس میں جمع کرا دیتا تھا، اسکول والے اسے ان کا سگا ماموں سمجھتے تھے اور ٹیچروں سے میٹنگ کے لئے بھی وہ ان کا ماموں بن کر معاملات کو ڈیل کیا کرتا تھا! خدا بخش ناریجو اپنے بیٹے کے لئے ریشماں کی بیٹی دیکھنے گیا تھا، جو کہ اسکول ٹیچر تھی اور اس کے بیٹے نے اسے پسند کر لیا تھا، خدا بخش مالدار آدمی تھا اور اس کا بیٹا لندن سے تعلیم مکمل کر کے آیا تھا،
وہ اس کی شادی کسی جاگیردار گھرانے میں کرنا چاہتا تھا مگر اس کے بیٹے نے اسے مجبور کر دیا تھا کہ وہ ریشماں سے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگے، آج خدا بخش رشتہ مانگنے ریشماں کے گھر آیا ہوا تھا، بات تقریباً طے ہو چکی تھی کہ خدا بخش کی نظر دیوار پہ ٹنگی یوسف خان کی تصویر پہ جا پڑی، وہ تصویر کو دیکھتے کا دیکھتا رہ گیا، اس کے چہرے پہ ایک رنگ آ رہا تھا اور ایک جا رہا تھا، یہ کس کی تصویر ہے اس نے ریشماں سے پوچھا، یہ میرے بھائی کی تصویر ہے،
تو کیا یہ یوسف خان آپ کا بھائی ہے؟ نہ چاہتے ہوئے بھی خدا بخش کی آواز بلند ہو گئی تھی اور اس میں تلخی نمایاں تھی، ریشماں صورتحال سے بے خبر اپنی دھن میں بتا رہی تھی نہیں ہم سندھی ہیں، یوسف خان پٹھان تھے، وہ میرے منہ بولے بھائی تھے مگر حقیقی بھائی سے زیادہ عزیز تھے، اس نے آہستہ آہستہ اپنی دکھی داستان خدا بخش کو سنا دی، خدا بخش کی حالت قابل دید تھی، کاٹو تو بدن میں گویا لہو نہ ہو،
آج اسے پتہ چلا تھا کہ یوسف خان جس سے وہ ہاتھ ملانا پسند نہیں کرتا تھا،کردار کا کوہ ہمالیہ تھا، آج اسے اپنا آپ، اپنا مولوی اور مسجد کے سارے نمازی اس کے سامنے بونے لگ رہے تھے جن کے پڑوس میں ایک بیوہ قیامت سے گزر رہی تھی اور انہیں خبر تک نہ ہوئی جبکہ یوسف خان نے خود میلے کچیلے کپڑے پہن کر ان کی کفالت کی تھی اور ان کی کشتی کو کنارے لگا دیا تھا! خدا بخش کافی دیر سے اس کی قبر کی پائنتی بیٹھا اس کی قبر کی مٹی کو کرید رہا تھا،
گویا وہ اس کے پیروں کو ہاتھ لگا کر گستاخی کی معافی مانگ رہا ہو، وہ سوچ رہا تھا کہ زندہ ولی ہمارے ارد گرد پھرتے رہتے ھیں مگر ہم لوگ ان کو کوئی اہمیت نہیں دیتے، جبکہ مردہ ولیوں کے فسانے بناتے رہتے ہیں، یہ اس کا معمول تھا وہ ہر جمعرات کو عصر کے بعد قبرستان آتا اور مغرب سے پہلے واپس جاتا تھا، وہ سوچوں میں گم تھا کہ آصف ناریجو نے اس کا کندھا تھپتھپایا، ابا جی جانے کا وقت ہو گیا ہے، ساتھ آصف کی بیوی اور ریشماں کی بڑی بیٹی بھی کھڑی تھی!



















































