پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ محسوسات اور درد وغیرہ کا انحصار صرف اور صرف دماغ پر ہوتا ہے البتہ حالیہ دریافتوں سے یہ معلوم ہوا ہے کہ جلد میں درد کو محسوس کرنے والے آخذے (Receptors) ہوتے ہیں۔ اگریہ خلیات نہ ہوں تو انسان درد کو محسوس کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ جب کوئی ڈاکٹر کسی مریض میں جلنے کی باعث پڑنے والے زخموں کا معائنہ کرتا ہے تووہ جلنے کی شدت معلوم کرنے کے لئے جلے ہوئے مقام پر سوئی چبھوکردیکھتاہے۔
اگر چُبھنے سے متاثرہ شخص کو درد محسوس ہوتاہے تو ڈاکٹر کو اس پر خوشی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوتاہے کہ جلنے کا زخم صرف باہر کی حد تک ہے اوردرد محسوس کرنے والے خلیات (درد کے آخذے) محفوظ ہیں۔ اس کے برخلاف اگر متاثرہ شخص کو سوئی چُبھنے پر درد محسوس نہ ہوتو یہ تشویش ناک امر ہوتا ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جلنے سے بننے والے زخم کی گہرائی زیادہ ہے اور درد کے آخذے بھی مردہ ہوچکے ہیں۔ درج ذیل آیت مبارکہ میں قرآن پاک نے بہت واضح الفاظ میں درد کے آخذوں کی موجودگی کے بارے میں بیان فرمایاہے: ’’جن لوگوں نے ہماری آیات ما ننے سے انکار کردیا ہے انہیں بالیقین ہم آگ میں جھونکیں گے اور جب اس کے بدن کی کھال گَل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کر دیں گے تاکہ وہ خوب عذاب کا مزہ چکھیں۔ اللہ بڑی قدرت رکھتاہے اوراپنے فیصلوں کو عمل میں لانے کی حکمت کو خوب جانتا ہے۔‘‘ تھائی لینڈ میں چانگ مائی یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف اناٹونی کے سربراہ پروفیسر تیگاتات تیجاشان (Tagatat Tejasen) نے درد کے آخذوں پرتحقیق میں بہت وقت صرف کیا۔ پہلے تو انہیں یقین ہی نہیں آیا کہ قرآن پاک میں اس سائنسی حقیقت کا انکشاف موجود ہے۔ تاہم بعدازاں جب انہوں نے مذکورہ آیت قرآنی کے ترجمے کی باقاعدہ تصدیق کرلی تو وہ قرآن پاک کی سائنسی درستگی سے اس قدر متاثر ہوئے کہ سعودی عرب کے شہر ریاض میں منعقدہ آٹھویں سعودی طبی کانفرنس کے موقع پر جس کا موضوع ’’قرآن پاک اور سنت میں سائنسی نشانیاں‘‘ تھا، انہوں نے بھرے مجمعے میں فخرکے ساتھ کہا۔لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدُ الرَّسُوْلُ اللّٰہ۔’’ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں محمدؐ اللہَّ کے رسول ہیں۔



















































