شہد کی مکھی کئی طرح کے پھلوں اور پھولوں کا رس چوستی ہے اور اسے اپنے ہی جسم کے اندر شہد میں تبدیل کرتی ہے۔ اس شہد کو وہ اپنے چھتے میں بنے خانوں میں جمع کرتی ہے۔ آج سے صرف چند صدیوں قبل ہی انسان کو یہ معلوم ہوا ہے کہ شہد اصل میں شہد کی مکھی کے پیٹ (Belly)سے نکلتا ہے، مگر یہ حقیقت قرآن پاک نے درج ذیل آیات مبارکہ میں بیان کر دی تھی۔
’’اس مکھی کے (پیٹ کے) اندر سے رنگ برنگ کا ایک شربت نکلتا ہے جس میں شفا ہے لوگوں کے لئے۔‘‘ علاوہ ازیں ہم نے حال ہی میں دریافت کیا ہے کہ شہد میں زخم کوٹھیک کرنے کی شفا بخش خصوصیات پائی جاتی ہیں اور یہ نرم (مرہم جیسی) جراثیم کش دوا (Mild antiseptic) کا کام بھی کرتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں رو سیوں نے بھی اپنے زخمی فوجیوں کے زخم ڈھانپنے کے لئے شہد کا استعمال کیا تھا۔ شہدکی یہ خاصیت ہے کہ یہ نمی کو برقرار رکھتا ہے اور بافتوں (tissue) پر زخمو ں کے بہت ہی کم نشان باقی رہنے دیتا ہے شہد کی کثافت (Density) کے باعث کوئی پپوندی یا جراثیم، زخم میں پروان نہیں چڑھ سکتے۔ سسٹر کیرول (Carole) نامی ایک عیسائی راہبہ نے برطانوی شفا خانوں میں سینے اور الزائمرکی بیماریوں میں مبتلابائیس ناقابل علاج مریضوں کا علاج پرپولس (Propolis) نامی مادے سے کیا۔ شہد کی مکھیاں یہ مادہ پیدا کرتی ہیں اور اسے اپنے چھتّے کے خانوں کو جرا ثیموں کوروکنے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی پودے سے ہونے والی الرجی میں مبتلا ہو جائے تو اسی پودے سے حاصل شدہ شہد اس شخص کو دیا جا سکتا ہے تا کہ وہ الرجی کے خلاف مزاحمت پیدا کر لے۔ شہد و ٹامن۔ کے اور فر کٹوز سے بھی بھرپور ہوتا ہے۔ قرآن میں شہد، اس کی تشکیل اور خصوصیا ت کے بارے میں جو علم دیا گیا ہے اسے انسان نے نزول قرآن کے صدیوں بعد اپنے تجربے اور مشاہدے سے دریافت کیا ہے۔



















































