اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

ماں کے دودھ کی آن لائن فروخت حفظانِ صحت کے اصولوں کے منافی

datetime 26  مارچ‬‮  2015 |

کراچی (نیوز ڈیسک )بی ایم جی نامی طبی جریدے نے خبردار کیا ہے کہ صحت کے عالمی مبصرین کو”ماں کے دودھ“ کی آن لائن فروخت کی روک تھام کاطریقہ کار وضع کرنا چاہئے۔جریدے کی تحقیق کے مطابق آن لائن فروخت کیا جانے والا ماں کا دودھ باضابطہ طریقے سے ’بریسٹ ملک بینک‘ کے ذریعے فروخت کیے جانے والے دودھ کی نسبت کم بھروسہ مند ہے۔جریدے کے مطابق وہ نئی مائیں جو اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلا پاتی یا پلانا نہیں چاہتی ان میں آن لائن دودھ خریدنے کا رواج فروخت پا رہا ہے۔ضریدے کے مدیر کا کہنا ہے کہ آئن لائن دودھ کے سستا ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آن لائن ادارے قیمت کم رکھنے کے لئے دودھ فراہم کرنے والی خواتین کی طبی جانچ کے لئے مقررہ ٹیسٹ نہیں کراتے جس کے سبب آن لائن خریدے گئے دودھ میں یرقان، ایڈز اور اسی نوعیت کی دیگر مہلک بیماریوں کے جراثیم موجود ہونے کا امکان حد سے زیادہ ہے۔جریدے نے اپنی نگرانی میں آن لائن فروخت کیے جانے والےدودھ کے نموںوں کی جانچ کی جس کے انتہائی انوکھے نتائج حاصل ہوئے، 21 فیصد نموںوں میں ہرپس نامی جلدی وائرس پایا گیا۔حاصل کیے گئے 101 نمونوں میں سے92 میں جراثیم کی پرورش کا انتہائی مثبت رحجان دیکھا گیا جس کی وجہ پیسچیرائزیشن کے عمل کا نا ہونا ہے۔نموںوں میں دیکھا گیا کہ 25 فیصد آن لائن دودھ فروخت کرنے والوں کی پیکنگ بھی معیاری نہیں تھی جس کے سبب ’ماں کے دودھ‘ جیسی نعمت کو طویل عرصے تک محفوط نہیں رکھا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…